حوثیوں اور روس کے درمیان ’یخونت‘ میزائلوں کی ڈیل میں ایران کی ثالثی کا انکشاف
تین مغربی اورعلاقائی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران روس اور یمن کی حوثی تحریک کے درمیان مسلح گروپ کو اینٹی شپ میزائلوں کی منتقلی کے لیے جاری خفیہ مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو اجاگر کرتی ہے۔
سات ذرائع نے بتایا کہ روس نے ابھی تک ’یخونت‘ میزائلوں کی منتقلی کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہیں P-800 اونکس بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ کو بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر زیادہ درستگی کے ساتھ حملہ کرنے کی سہولت ملے گی۔ اس سے امریکہ اور یورپی ممالک کے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا۔
جولائی میں ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ روس میزائل بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ پریس رپورٹس میں اس سے پہلے ایرانی ثالثی کے بارے میں بات نہیں کی گئی۔
حوثی گروپ نے نومبر سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت میں بحیرہ احمر میں اہم بحری راستوں پر بحری جہازوں پر ڈرون اور میزائلوں سے متعدد حملے کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان حملوں کی وجہ سے کم از کم دو بحری جہاز ڈوب گئے اور تیسرے پر قبضہ کر لیا گیا، جس سے جہاز رانی کمپنیوں کو جہازوں کا رخ موڑنے پر مجبور کر کے عالمی سمندری تجارت میں خلل پیدا کیا گیا
حوثی تحریک کے حملوں کے جواب مین امریکہ اور برطانیہ نے اس کے ٹھکانوں پر متعدد بار حملے کیے ہیں لیکن حملے حوثیوں کے حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
مذاکرات سے واقف دو علاقائی عہدیداروں نے بتایا کہ حوثیوں اور روسیوں کی اس سال کم از کم دو بار تہران میں ملاقات ہوئی۔ تقریباً 300 کلومیٹر تک مار کرنے والے درجنوں میزائل فراہم کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ دیگر ملاقاتیں آنے والے ہفتوں میں متوقع ہیں۔
روس اس سے قبل ایران کے ساتھ اتحادی لبنانی حزب اللہ گروپ کو یخونت میزائل فراہم کر چکا ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ بات چیت مرحوم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں شروع ہوئی تھی، جو مئی میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ایک مغربی انٹیلی جنس ذریعے نے کہا کہا کہ "روس حوثیوں کے ساتھ یخونت ہائپرسونک اینٹی شپ میزائلوں کی منتقلی کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے۔ ایرانی مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں، لیکن وہ ان پر دستخط نہیں کرنا چاہتے"۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ میں ایران کے مشن اور روسی وزارت دفاع نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔
حوثی گروپ کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام نے رائٹرز کو بتایا کہ "ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں"۔
ایک سینیر امریکی اہلکار نے ان مخصوص دفاعی سسٹمز کا نام بتانے سے انکار کر دیا جنہیں منتقل کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ روس حوثیوں کو میزائل فراہم کرنے پر بات کر رہا ہے۔ انہو نے اس پیش رفت کو "انتہائی پریشان کن" قرار دیا۔
امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے کہا کہ حوثیوں کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی کسی بھی کوشش سے "بحیرہ احمر اور وسیع مشرق وسطیٰ میں جہاز رانی کی عالمی آزادی اور استحکام میں مشترکہ بین الاقوامی مفاد کو نقصان پہنچے گا"۔
روس اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات
یوکرین میں روس کی جنگ کے دوران روس اور ایران فوجی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔امریکہ نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ تہران نے بیلسٹک میزائل ماسکو کو منتقل کیے ہیں جنہیں یوکرین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
تین ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کو مسلح کرنے کے لیے ماسکو سے مطالبہ کرنے والے مقاصد میں سے ایک یہ امکان ہے کہ مغربی ممالک یوکرین کو روس کے اندر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مغربی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔