2006 میں اسرائیل اور لبنان کے طاقتور گروپ حزب اللہ کے درمیان ایک طویل جنگ کے بعد تنازعے کے خاتمے اور سرحد پر دیرپا سلامتی کی راہ ہموار کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
لیکن قرارداد 1701 کی شرائط کبھی بھی مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئیں حالانکہ تقریباً دو عشروں سے نسبتاً سکون تھا۔
اور اب تقریباً ایک سال سے نچلی سطح کی شورش کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ ایک اور مکمل جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
اسرائیلی جیٹ طیاروں نے لبنان کے اندر گہرائی تک گولہ باری کی اور حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں اندرونی علاقوں میں راکٹ فائر کیے تو اقوامِ متحدہ اور سفارتی حکام نے تنازعہ ختم کرنے کے لیے دوبارہ 2006 کی قرارداد کی طرف رجوع کیا۔
برسوں کی گہری منقسم سیاست اور علاقائی جغرافیائی سیاسی دشمنیوں سے قرارداد 1701 کے نفاذ میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی پھر بھی اسے بدستور اسرائیل اور لبنان کے درمیان طویل مدتی استحکام کا روشن ترین امکان سمجھا جاتا ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کیا ہے؟
2000 میں اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے نشان زدہ "بلیو لائن" کے ساتھ واقع جنوبی لبنان کے بیشتر علاقوں سے اپنی افواج کو واپس بلا لیا۔ یہ بلیو لائن دونوں ممالک اور گولان کی پہاڑیوں کو الگ کرتی ہے۔ یونی فِل (یو این آئی ایف آئی ایل) کے نام سے معروف لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج نے بلیو لائن کے برابر میں اپنی موجودگی میں اضافہ کیا۔
قرارداد 1701 کو 2000 سے نامکمل کام کو مکمل کرنا اور 2006 کی جنگ ختم کرنا تھا یعنی اسرائیلی افواج کی مکمل دست برداری جب کہ لبنانی فوج اور یونی فِل- حزب اللہ کے علاوہ - کی صورت میں لبنان کے دریائے لیطانی کے جنوب میں خصوصی مسلح موجودگی ہو گی۔
لبنانی ریاست کو اپنے جنوب پر مکمل خودمختاری حاصل کرنی تھی۔
دریں اثنا، اقوامِ متحدہ کے 15,000 تک امن فوجی امن برقرار رکھنے، بے گھر ہونے والے لبنانیوں کی واپسی اور لبنانی فوج کے ساتھ علاقے کو محفوظ بنانے میں مدد کریں گے۔
اس کا مقصد طویل مدتی سلامتی تھا جس میں زمینی سرحدوں کی بالآخر علاقائی تنازعات حل کرنے کے لیے حد بندی کر دی گئی۔
لبنانی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل الیاس ہنا نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، "یہ ایک خاص صورتِ حال اور سیاق و سباق کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ قرارداد کا اصل مقصد معدوم ہونا شروع ہو گیا۔"
کیا اس پر عمل درآمد ہوا ہے؟
کئی سالوں سے لبنان اور اسرائیل کشیدہ سرحد پر لاتعداد خلاف ورزیوں کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دیتے رہے ہیں۔ اسرائیل کہتا ہے کہ حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس اور بڑھتا ہوا اسلحہ باقی ہے اور گروپ پر ایک مقامی ماحولیاتی تنظیم کو فوجیوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ اسرائیلی فوجی جیٹ طیاروں اور بحری جہازوں کے لبنانی علاقے میں داخل ہونے پر لبنان کو شکایت ہے حالانکہ کوئی فعال تنازعہ نہیں ہے۔
بیروت کی امریکن یونیورسٹی میں اعصام فارس انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر جوزف باہوت نے کہا، "آپ کے پاس یونی فِل کا ایک کردار تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ کسی بھی دوسری امن فوج کی طرح آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا جس کو کوئی واضح اختیار حاصل نہیں تھا۔ انہیں لبنانی فوج کے ساتھ رابطہ کاری کیے بغیر علاقے کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔"
یونی فِل نے برسوں سے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد کے شمال میں کچھ علاقوں سے دستبردار ہو جائے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
اس دوران حزب اللہ کی طاقت میں ہتھیاروں اور پارلیمنٹ میں سیاسی اثر و رسوخ دونوں اعتبار سے اضافہ ہوا ہے۔
شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار میں رکھنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ گروپ ضروری تھا جب حزبِ اختلاف کے مسلح گروہوں نے ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور یہ عراق اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ دیگر گروپوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے پاس ایک اندازے کے مطابق 150,000 راکٹ اور میزائل ہیں جن میں اسرائیل کے رخ پر عین مطابق نشانہ لینے والے گائیڈڈ میزائل شامل ہیں اور اس نے اپنے ہتھیاروں میں ڈرون متعارف کرائے ہیں۔
ہنا کہتے ہیں کہ حزب اللہ کو سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ کے ساتھ "ایک غیر ریاستی عنصر کے طور پر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا"۔
موجودہ دشمنی کے خاتمے کے لیے 1701 کتنا موزوں ہے؟
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے لیے امریکا اور فرانس کی قیادت میں ہونے والی کوششوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اب بھی اس قرارداد کو کلیدی سمجھتے ہیں۔ تقریباً ایک سال سے واشنگٹن نے ایک معاہدے کے مختلف ورژنز کو فروغ دیا ہے جو بتدریج اس کے مکمل نفاذ کا باعث بنے گا۔
لیکن اب حالات 2006 کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
اسرائیل کہتا ہے کہ اس کی فضائی بمباری کا مقصد حزب اللہ کو پسپا کرنا اور اس کے شمالی باشندوں کی بحفاظت گھروں کو واپسی ممکن بنانا ہے۔ حزب اللہ کہتا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے بعد ہی راکٹ داغنا بند کرے گا جہاں اسرائیل اس کے اہم اتحادی حماس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
وہاں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
باہوت نے کہا، "آپ 1701 کو سو چیزوں کے ساتھ باندھ رہے ہیں۔ قرارداد طاقت اور سیاسی تناظر کے توازن کی عکاسی کرتی ہے۔"
اس لیے جبکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے اہداف بدستور موزوں ہیں تو نئے مسائل سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس کے نفاذ کو روک دیا ہے۔
ہنا نے کہا، "متحارب فریقین کے درمیان آپ کو ہر فریق کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ انہوں نے کچھ حاصل کیا ہے۔ ورنہ آپ اس وقت تک میز پر نہیں آئیں گے جب تک کہ آپ کو شکست نہ ہو یا آپ مکمل ختم نہ ہو جائیں۔"