حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کرکی کے زندہ یا مارے جانے کے حوالے سے ابہام برقرارہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بیروت میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک فضائی حملے میں وہ ہلاکت ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس نے اسی چھاپے میں حزب اللہ کے رہ نما حسن نصر اللہ کو ہلاک کر دیا ہے۔ انہیں اس وقت قتل کیا گیا جب حزب اللہ کی قیادت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں واقع اس کے ہیڈ کوارٹر میں جمع ہو رہی تھی۔
کرکی کون ہے؟
کئی اہم فوجی رہ نماؤں کے خاتمے کے بعد کرکی کو حزب اللہ کا اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر سمجھا جاتا ہے۔
وہ جہاد کونسل، حزب اللہ کے عسکری اور سکیورٹی ونگ کا رکن ہے۔ حسن نصر اللہ نے جولائی میں انہیں فواد شکر کے قتل کے بعد اس کی جگہ تعینات کیا تھا۔
وہ ایک غالب اور مضبوط شخصیت کا حامل کمانڈر سمجھا جاتا ہے۔اس نے جنوبی علاقے میں ایک عہدیدار کے طور پر اپنے عہدے کی وجہ سے کئی برسوں میں زبردست جنگی اور تنظیمی تجربہ حاصل کیا۔
امریکی نیوز سائٹ Axios کے مطابق فواد شکر اور ابراہیم عقیل کے قتل کے بعد ان کا شمار اہم ترین فوجی حکام میں ہوتا ہے۔
وہ 1967 میں نبطیہ شہر میں پیدا ہوا تھا وہ "جہاد کونسل" کا رکن رہا ہے جو حزب اللہ کے تنظیمی درجہ بندی میں سب سے اعلیٰ ادارہ ہے۔ وہ جو تزویراتی اور فوجی فیصلے کرتی ہے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا انتظام کرتی ہے۔
اسرائیلیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ علی کرکی دو کمانڈروں طالب عبداللہ اور محمد ناصر کےنگران تھے جو "نصر" اور "عزیز" یونٹوں کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ دونوں یونٹیں اسرائیل کی سرحد سے متصل دریائے لیطانی کے جنوب میں سرگرم ہیں۔
علی کرکی مکمل رازداری میں رہتے ہیں اور اسرائیل کی طرف سے نشانہ بننے کے خوف سے بار بار جگہ بدلتے رہتے ہیں۔
وہ فروری میں ایک قاتلانہ حملے میں بچ گیا تھا جس میں حزب اللہ کے ایک رہنما محمد الدیبس کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ 2019 میں امریکہ نے اسے اپنی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا۔