لبنانی حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کو قتل کرنے کے لیے بم امریکہ نے فراہم کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک امریکی سینیٹر مارک کیلی نے انکشاف کیا ہے کہ لبنانی دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ کو قتل کرنے کی اسرائیلی فوجی مہم کے لیے استعمال ہونے والا گائیڈڈ بم امریکی ساختہ تھا۔ جو امریکہ نے اسرائیل کو فراہم کیا تھا۔ یہ بات امریکی سینیٹر نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔

سینیٹر مارک کیلی سینیٹ کی آرمڈ سروسز سے متعلق سب کمیٹی کے چئیرمین ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل نے حسن نصراللہ اور ان کے ساتھیوں کو حزب اللہ ہیڈ کوارٹر میں ہلاک کرنے کے لیے 900 کلو وزن کا حامل مارک 84 سیریز کا بم استعمال کیا ہے۔ وہ این بی سی کو ایک انٹرویو دے رہے تھے۔

یہ انکشاف کسی امریکی کی طرف سے پہلی بار سامنے آیا ہے۔ خیال رہے امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہونے کے ناطے اسلحہ فراہم کرنے والا بھی سب سے بڑا ملک ہے۔

مارک کیلی نے کہا ' ہم دیکھتے ہیں کہ گائیڈڈ میزائلوں اور بموں کا استعمال بڑھ گیا ہے اور ہم مسلسل یہ ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ کیلی کے مطابق یہ شعبہ 'جوائنٹ ڈائریکٹوریٹ اٹیک میونیشنز' کے تحت کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا نصراللہ کو قتل کرنے کے لیے 2000 پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیا گیا ، جس کا وزن 900 کلو گرام کے برابر ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز حسن نصراللہ کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کر دیا تھا۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس حملے میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب پینٹاگون نے بھی ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

خیال رہے 'جوائنٹ ڈائریکٹوریٹ اٹیک میونیشن' ان گائیڈڈ میزائلوں اور بموں کو بھی گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کرتا ہے ۔ اسرائیل کو سب سے زیادہ اسلحہ دینے والا امریکہ ہی ہے۔ جس کی بدولت اسرائیل ایک سال سے غزہ میں، لبنانی سرحد پر اور لبنان کے اندر اور شام و ایران کے بعد اب یمن میں بھی حملے کرنے کی شروعات کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں