نامعلوم لاشیں: لبنان میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ڈی این اے نمونے جمع کیے جانے لگے

جنوبی لبنان کے کئی ہسپتالوں کے ریفریجریٹرز لاشوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں، اہل خانہ کو شناخت کرنے میں مشکلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

داخلی سیکورٹی فورسز کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والوں کے اہل خانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈی این اے ٹیسٹ کے مراکز میں آئیں جہاں ان کے پیاروں کی لاشیں اور جسمانی اعضا موجود ہیں تاکہ ان کے ڈی این اے نمونے لے کر میتوں کی شناخت کی جا سکے۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی مدد کے لیے اور نامعلوم شناخت کے لاپتہ افراد یا ان کے جسم کے اعضاء کی شناخت کے عمل کو آسان بنانے کے کے لیے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ جوڈیشل پولیس سے منسلک مراکز میں جائیں تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے لیے ان کے ضروری نمونے حاصل کیے جا سکیں۔

ایک ہفتے سے اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے لبنان کے کئی علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہا ہے۔ سب سے نمایاں حملہ جمعہ 27 ستمبر کو کیا گیا۔ اس حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو قتل کردیا گیا۔ حملے میں حسن نصر اللہ کے ساتھ دیگر کئی سینئر رہنماؤں کو بھی شہید کردیا گیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں مدد کے لیے کالیں شائع کر رہے ہیں۔ جنوبی لبنان میں ایجنسی فرانس پریس کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ کئی ہسپتالوں کے ریفریجریٹرز مردہ لوگوں کی لاشوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ستمبر کے وسط سے کئی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں