جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، مشرق وسطیٰ کا تنازعہ سفارتکاری سے حل کیا جائے : گروپ سیون
گروپ سیون ملکوں کے رہنماؤں نے مشرق وسطی کی بگڑی امن و امان کی صورت حال اور بحران پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس پس منظر میں دنیا کے ان سات امیر ترین ملکوں نے تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
گروپ سیون کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ' مسئلے کا سفارتی حل اب بھی ممکن ہے اور تصادم کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گا۔'
گروپ سیون جس میں سربراہی کے لیے روٹیشن کا طریقہ رائج ہے۔ اس کے اجلاسوں کی صدارت آج کل اٹلی کے پاس ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جیوجیا میلونی نے گروپ سیون کے رہنماؤں کی میزبانی کی ۔ یہ اجلاس اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے بعد بلایا گیا تھا۔ گروپ سیون کے خیال میں اس سے علاقے میں جنگی خطرہ اور خوف بڑھ گیا ہے۔
اٹلی کی حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام رہنماؤں نے ایرانی میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔ یہ اسرائیل پر اب تک کا ایران کا سب سے بڑا حملہ تھا۔ گروپ رہنماؤں نے جنگی خطرہ کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا ہے۔
گروپ نے غزہ کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2735 کے تحت مرحلہ وار جنگ بندی اور لبنان اسرائیل سرحدی امن کے لیے قرار داد 1701 جسے 2006 میں منظور کیا گیا تھا اس کے مطابق آگے بڑھانے اور عمل میں لانے کا کہا ہے۔ جبکہ کشیدگی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور سفارتی حل پر زور دیا ہے ۔ یاد رہے گروپ سیون ممالک میں امریکہ، کینیڈا ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، جاپان اور اٹلی شامل ہیں۔