اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کا ایک سال پوار ہونے کے باوجود یرغمالیوں کو رہائی نہ دلا سکنے اور ان کے آج تک غزہ میں قید ہونے کے ماحول میں کہا ہے کہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے ہم پابند ہیں۔
یہ اسرائیل کی اب تک کی سب سے لمبی جنگ ہے۔ جس کے تین بڑے اہداف میں ایک یرغمالیوں کو واپس لانا ، دوسرا حماس کا غزہ سے خاتمہ کرنا اور تیسرا یہ کہ آئندہ کے لیے بھی غزہ سے ایسے خطرے کو ختم کرنا تھا جس کے نتیجے میں دوبارہ سات اکتوبر جیسا طوفان الاقصیٰ نہ ہو سکے۔
مگر ایک سال کی طویل ترین جنگ اور بھاری معاشی قیمت ادا کرنے کے باوجود نیتن یاہو نے پیر کے روز ایک بار پھر ان یرغمالیوں کو واپس لانے کا اسرائیلیوں سے وعدہ ہی کیا ہے۔ جبکہ حماس نے پیر کے روز بھی تل ابیب پر میزائل فائر کر کے ثابت کیا ہے کہ حماس کے خاتمے کا اسرائیلی خیال اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی طرح ہی ناکام ہے۔
ایک سال کی غزہ جنگ کے بعد نیتن یاہو اپنے عوام سے اپنے جاری کردہ بیان میں کہہ رہے تھے ' اس دن اور اس مقام پر جیسا کہ اس کے علاوہ بھی ہمارے ملک میں کئی مقام ہیں جہاں ہمارے لوگ ہلاک ہوئے تھے یا ہمارے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ ہم اس بات کے پابند ہیں کہ ہم یرغمالیوں کو واپس لائیں گے۔'
نیتن یا ہو نے کہا 'یرغمالی ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کی قربانی اپنے ملک کے لیے ہے۔ہم نے ایک خوف ناک قتل عام کو ایک سال پہلے دیکھا تھا۔ '
-
اسرائیلی جارحیت پورے خطے کو لپیٹ میں لے رہی ہے: اردن
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے خبر دار کیا ہے کہ ' اسرائیلی جارحیت پورے خطے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل 'نسل کشی' کی قیمت ادا کرے گا:غزہ جنگ کی برسی کےموقع پر ترکیہ کےایردوآن کابیان
انہوں نے غزہ کے قتلِ عام کو تمام انسانیت اور اس کی امیدوں کا قتل قرار دیا
بين الاقوامى -
امریکی مرکزی کمان کے سربراہ کا دورۂ اسرائیل، ایران اور لبنان پر بات چیت کی: فوج
دورے کا مقصد "حالات کا جائزہ" لینا اور سکیورٹی چیلنجز پر بات کرنا تھا
مشرق وسطی