یرغمالیوں کو واپس لانے کے پابند ہیں، وہ ہمارے ہیرو ہیں: نیتن یاہو کا پھر بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کا ایک سال پوار ہونے کے باوجود یرغمالیوں کو رہائی نہ دلا سکنے اور ان کے آج تک غزہ میں قید ہونے کے ماحول میں کہا ہے کہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے ہم پابند ہیں۔

یہ اسرائیل کی اب تک کی سب سے لمبی جنگ ہے۔ جس کے تین بڑے اہداف میں ایک یرغمالیوں کو واپس لانا ، دوسرا حماس کا غزہ سے خاتمہ کرنا اور تیسرا یہ کہ آئندہ کے لیے بھی غزہ سے ایسے خطرے کو ختم کرنا تھا جس کے نتیجے میں دوبارہ سات اکتوبر جیسا طوفان الاقصیٰ نہ ہو سکے۔

مگر ایک سال کی طویل ترین جنگ اور بھاری معاشی قیمت ادا کرنے کے باوجود نیتن یاہو نے پیر کے روز ایک بار پھر ان یرغمالیوں کو واپس لانے کا اسرائیلیوں سے وعدہ ہی کیا ہے۔ جبکہ حماس نے پیر کے روز بھی تل ابیب پر میزائل فائر کر کے ثابت کیا ہے کہ حماس کے خاتمے کا اسرائیلی خیال اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی طرح ہی ناکام ہے۔

ایک سال کی غزہ جنگ کے بعد نیتن یاہو اپنے عوام سے اپنے جاری کردہ بیان میں کہہ رہے تھے ' اس دن اور اس مقام پر جیسا کہ اس کے علاوہ بھی ہمارے ملک میں کئی مقام ہیں جہاں ہمارے لوگ ہلاک ہوئے تھے یا ہمارے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ ہم اس بات کے پابند ہیں کہ ہم یرغمالیوں کو واپس لائیں گے۔'

نیتن یا ہو نے کہا 'یرغمالی ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کی قربانی اپنے ملک کے لیے ہے۔ہم نے ایک خوف ناک قتل عام کو ایک سال پہلے دیکھا تھا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں