اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں: لبنانی وزیرِ اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے جمعے کے روز اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان "فوری" جنگ بندی کے لیے ایک قرارداد منظور کرے۔

ایک ٹیلی ویژن خطاب میں میقاتی نے اسرائیل کے ساتھ سرحد پر فوج کی تعیناتی کے لیے اپنی حکومت کے عزم پر زور دیا اور کہا، حزب اللہ اس معاملے پر متفق ہے۔ یہ تعیناتی دشمنی کے خاتمے کا ایک حصہ ہو گی۔

میقاتی نے کہا، لبنان کی وزارتِ خارجہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد جاری کرنے کو کہے گی جس میں "مکمل اور فوری جنگ بندی" کا مطالبہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا، ان کی حکومت "قرارداد 1701 کے مکمل اطلاق" کے لیے پرعزم ہے جو 2006 میں منظور کی گئی تھی۔ انہوں نے تقاضہ کیا ہے کہ لبنانی فوج اور اقوامِ متحدہ کی امن فوج ملک کے جنوب میں تعینات واحد مسلح افواج ہوں۔

انہوں نے کہا، لبنان "جنوب میں فوج کی تعیناتی اور سرحد کے ساتھ اپنی موجودگی کو تقویت دینے کے لیے پرعزم ہے۔" انہوں نے مزید کہا، حزب اللہ اس معاملے پر متفق ہے۔

ایک سرکاری ذریعے نے پہلے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ حزب اللہ نے لبنانی حکام کو مطلع کیا تھا کہ اس نے 27 ستمبر کو اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی قبول کر لی تھی جس دن اسرائیلی حملے میں اس کے رہنما حسن نصر اللہ کی ہلاکت ہوئی۔

قبل ازیں ایرانی حمایت یافتہ مزاحمت کار گروپ نے کہا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں جنگ بندی قبول کرے گا جب غزہ میں اس کی فلسطینی اتحادی حماس کے ساتھ بھی جنگ بندی معاہدہ طے ہو جائے۔

لبنان کے سرکاری میڈیا اور وزارتِ خارجہ کے مطابق میقاتی نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری امن فوج پر حملوں کی بھی ایک "جرم" کے طور پر مذمت کی جن میں اسرائیلی افواج نے لگاتار دو دن امن دستوں کو نشانہ بنایا۔

لبنانی حکام کے مطابق ایک سال کی دشمنی میں لبنان میں 2,100 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور 10 لاکھ سے زائد نقلِ مکانی پر مجبور ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں