ہمارے دو امن فوجی اسرائیلی فائرنگ میں زخمی ہوئے ہیں: انڈونیشیا کی جانب سے تصدیق
حملہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے: وزیرِ خارجہ کی جانب سے مذمت
انڈونیشیا نے جمعہ کے روز لبنان میں اسرائیلی فائرنگ میں اقوامِ متحدہ کے دو امن فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی اور اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ کے امن دستوں (یونی فِل) نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں ان کے ہیڈکوارٹر پر فائرنگ کی جس سے امن فوج کے دو ارکان زخمی ہوئے اور اس حملے کی مذمت کی گئی۔ اسرائیل نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی چوکیوں کے قریب حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کو ایک کارروائی میں نشانہ بنا رہا تھا جو امن مشن کے بعض پوزیشنوں سے "منتقلی" کے اسرائیلی مطالبات کو مسترد کرنے کے بعد ہوا۔
وزیرِ خارجہ ریٹنو مارسودی نے ایک بیان میں کہا، "ناقورہ میں ٹاور پر حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے اور ان کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔"
انہوں نے مزید کہا، دو امن فوجیوں کو ہلکی چوٹیں آئیں اور وہ مزید علاج کے لیے ہسپتال میں ہیں۔
انہوں نے کہا، "انڈونیشیا اس حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور املاک پر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی ایک بڑی خلاف ورزی ہے۔"
انہوں نے تمام فریقوں سے ہر وقت اور ہر حال میں اقوام متحدہ (کی امن فوج) کے علاقے کے احترام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل کے سخت ناقد اور فلسطین کے حامی انڈونیشیا کے اس وقت لبنان میں اقوامِ متحدہ مشن یونی فِل کے ساتھ تقریباً 1,232 اہلکار تعینات ہیں۔ یونی فِل کے تقریباً 10,000 امن دستے جنوبی لبنان میں تعینات ہیں۔