اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں وسعت، فوجیوں کی سرحد پر حزب اللہ سے لڑائی جاری

رامیہ گاؤں کے قریب لڑائی جاری، اسرائیلی حملے میں اقوامِ متحدہ کا تیسرا امن فوجی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اسرائیل نے لبنان میں اپنے اہداف پر فضائی بمباری کا دائرہ وسیع کر دیا اور حزب اللہ کے روایتی قلعوں کے اندر اور باہر کے علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ اس کے فوجیوں کی اتوار کو سرحد پار مزاحمت کاروں سے لڑائی جاری ہے۔

لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق حزب اللہ کے غلبے والے علاقوں میں ہفتے کے روز اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی شہر نبطیہ میں ایک بازار کو اور پھر اتوار کو سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ایک 100 سال قدیم مسجد کو نشانہ بنایا۔

وزارتِ صحت نے بتایا کہ لبنان کے دیگر علاقوں میں بھی مہلک حملے ہوئے ہیں - ایک حملہ عیسائی اکثریتی پہاڑی علاقے میں شیعہ مسلمانوں کے ایک گاؤں پر اور دوسرا شمالی لبنان میں ہوا۔

کفر تبنیت کے میئر نے مسجد پر حملے کے بعد کہا کہ انہیں لگا کہ وہ لوگوں کو یکجا کرنے والی ایک پیاری جگہ سے محروم ہو گئے ہیں۔

فواد یاسین نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ ایک اہم جگہ تھی کیونکہ خاندان خاص مواقع پر اس کے بالکل برابر والے چوک میں جمع ہوتے تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کم از کم 100 سال پرانی تھی۔

لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا کہ ہفتے کے روز تین دیہاتوں پر حملوں میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے 36ویں ڈویژن نے حزب اللہ کے خلاف جنوبی لبنان میں "ہدفی اور محدود کارروائیوں کی سرگرمیاں" جاری رکھی ہیں۔

ایک بیان میں فوج نے کہا کہ اسرائیلی جیٹ طیاروں نے "حزب اللہ کے لانچرز، ٹینک شکن میزائل چوکیوں، ہتھیار ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور دہشت گردی کے اضافی اہداف کو نشانہ بنایا۔"

زمین پر فوجیوں نے "درجنوں دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔"

این این اے کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان پر "اپنے حملے بڑھا دیئے" ہیں جن میں "آدھی رات سے صبح تک پے در پے فضائی حملوں" کے نتیجے میں متعدد سرحدی دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ نے کہا کہ اس نے مارون الراس گاؤں میں جمع اسرائیلی فوجیوں پر گولہ باری کی۔

اتوار کی صبح اسرائیل نے کہا کہ اس نے لبنان سے داغے گئے پانچ مزید گولے روک لیے جبکہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔

فوج نے کہا کہ حزب اللہ نے یہودی کیلنڈر کے مقدس ترین دن یوم کپور کے اختتامِ ہفتہ پر اسرائیل میں تقریباً 320 میزائل داغے۔

اس نے یہ بھی کہا کہ اسی عرصے میں لبنان اور غزہ میں تقریباً 280 "دہشت گرد اہداف" پر حملے کیے گئے۔

اسرائیل نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے رہائشیوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں اور متعدد دیہاتوں کے لیے انخلاء کا نیا انتباہ جاری کیا۔

امن فوجیوں کو نشانہ بنانا

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اتوار کو کہا، وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن کو بتایا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کو کسی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کرتا رہے گا۔

وزارت نے دونوں کے درمیان رات کی گفتگو کے بعد ایک بیان میں کہا، "وزیر گیلنٹ نے زور دیا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں یونی فِل کے فوجیوں اور ان کے مقامات کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔" جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی افواج کی لڑائی میں حالیہ دنوں میں کم از کم پانچ امن فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

یونی فِل امن مشن نے اسرائیلی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ "دانستہ" اس کے مقامات پر فائرنگ کر رہی ہے۔

یونی فِل نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس کی افواج لبنانی قصبے ناقورہ جہاں اس کا ہیڈ کوارٹر ہے، کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر بھی بار بار فائرنگ کی زد میں آئی ہیں۔

انڈونیشیا، اٹلی اور بھارت سمیت 40 ممالک نے ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا، "ایسی کارروائیوں کو فوراً روکا جائے اور ان کی مناسب تفتیش کی جائے۔"

یونی فِل جس میں تقریباً 50 قومیتوں کے تقریباً 9,500 فوجی شامل ہیں، کو دوسری چیزوں کے علاوہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

تشدد میں کمی کا کوئی نشان نہ ہونے کے پیشِ نظر لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں نے "تباہ کن" علاقائی تنازعے کے خلاف خبردار کیا۔

اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن یونی فِل کے ترجمان آندری ٹینینٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائی جلد ہی "ہر ایک کے لیے تباہ کن اثرات کے حامل ایک علاقائی تنازعہ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔"

ٹینینٹی نے کہا، اس مسئلے کا کوئی "فوجی حل" نہیں ہے۔

سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں فائرنگ شروع کر دی تھی جو تقریباً روزانہ فائرنگ کے تبادلے کی وجہ بن گئی اور اس کے باعث موجودہ کشیدگی سے پہلے ہی دسیوں ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

اس سال ستمبر میں اسرائیل نے اپنی توجہ لبنان کی طرف مرکوز کر دی اور وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بے گھر اسرائیلیوں کو واپس ان کے گھروں کو لوٹانے کے عزم کا اظہار کیا۔

جب سے اسرائیل نے لبنان کے اردگرد کے اہداف پر فضائی حملوں کی ایک لہر شروع کی اور سرحد پار فوج بھیجی، تب سے لبنان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق 1,200 سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک ملین دیگر بے گھر ہو چکے ہیں۔

لبنان اور غزہ کی جنگوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے کہا کہ ان کی حکومت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک نئی قرارداد جاری کرنے کو کہے گی جس میں "مکمل اور فوری جنگ بندی" کا مطالبہ کیا جائے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا اور کہا، حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے کرنا "فوراً بند" کر دینا چاہیے۔

حزب اللہ جسے تہران اسلحہ اور مالی امداد فراہم کرتا ہے، کی حمایت کے ایک مظاہرے میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف نے ہفتے کے روز اسرائیلی حملے کی جگہ کا دورہ کیا۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اس حملے میں گروپ کے سکیورٹی چیف وافق صفا کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کی نہ حزب اللہ اور نہ ہی اسرائیل نے تصدیق کی ہے۔

غالباف کا دورہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے دوسرے براہِ راست حملے کا جواب دینے کے عزم کے بعد آیا جو تہران کی جرأت اور سرکشی کا عندیہ ہے۔ قبل ازیں پہلا میزائل حملہ اپریل میں ہوا تھا۔

تہران نے کہا کہ یہ مزاحمت کار قائدین اور ایک ایرانی جنرل کی ہلاکت کا بدلہ تھا۔

غزہ میں گہرا ہوتا ہوا دباؤ

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی افواج نے شمال میں جبالیا کے ارد گرد کے ایک علاقے پر توجہ مرکوز کر دی ہے جس سے وہاں پھنسے ہوئے لاکھوں افراد کو مزید مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایکس پر ہفتے کے روز جبالیا کے قریب ایک علاقے کے لیے انخلاء کا انتباہ پوسٹ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے کہا، اسے ایک "خطرناک جنگی زون سمجھا جاتا ہے۔"

غزہ کے رہائشی 27 سالہ سمیع اصلیہ نے اے ایف پی کو بتایا، "کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے، نہ جنوب میں اور نہ ہی شمال میں - ہر کسی کو موت کا خطرہ ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size