غزہ کے علاقے جبالیہ میں کئی ہفتوں سے جاری بمباری کے سلسلے میں جمعرات کے روز فلسطینی بچوں سمیت 19 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے بمباری کا یہ واقعہ جبالیہ میں ایک پناہ گزین کیمپ پر ہوا اور ان بےگھر فلسطینیوں میں سے مزید 19 کو قتل کر دیا گیا۔
غزہ کے شمالی حصے میں اسرائیلی فضائی بمباری سے ہونے والی ان ہلاکتوں کی فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے میں درجنوں مزید فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق بمباری سے پناہ گزین کیمپوں میں لگنے والی آگ بھجانے کے لیے پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔
واضح رہے جبالیہ ایک بار پھر اسرائیل کی بدترین بمباری کا شکار ہے اور اسرائیلی فوج کی مکمل ناکہ بندی میں ہے۔ ان کے کھانے کی اشیاء ، ادویات حتیٰ کہ پینے کے پانی کو بھی اسرائیلی فوج نے پہنچنے میں رکاوٹ پیدا کر رکھی ہے۔
ایک روز پہلے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نےاپنے اسرائیلی ہم منصب یوو گیلنٹ سے فون پر بات کرتے ہوئے انہیں اس خط کا یاد دلایا تھا جو شہریوں کے ساتھ غزہ میں جاری سلوک کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ اس فون کال کے بعد سکول میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپ پر بمباری کا یہ نیا واقعہ اہم ہے۔
-
برسلز سربراہ اجلاس میں غزہ اور لبنان میں فائر بندی اولین ترجیحات میں رہی : بوریل
یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے ذمے دار جوزپ بوریل نے زور دے کر کہا ہے کہ خلیج ...
بين الاقوامى -
غزہ سے میڈیکل کے 16 فلسطینی طلبہ کا تیسرا گروپ پاکستان کیلئے روانہ
قاہرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کی ایکس پر پوسٹ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف ...
بين الاقوامى -
جنگی ماحول:امریکی و اسرائیلی وزیردفاع کے درمیان پھررابطہ،غزہ میں جاری انسانی المیے پرگفتگو
امریکہ اور اسرائیل کے وزیر دفاع نے بدھ کے روز ایک مرتبہ پھر باہم رابطہ کیا ہے۔ ...
مشرق وسطی