السنوار کے قتل کے بعد حماس ہتھیار ڈال دے: اسرائیلی وزیر دفاع

السنوار کا قتل حماس کے ارکان کے لیے قیدیوں کی رہائی کا واضح اشارہ ہے: یوآو گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کے قتل کو غزہ میں تحریک کے ارکان کے لیے ایک "واضح اشارہ" قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ قیدیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنے کا وقت ہے۔

گیلنٹ نے زور دیا کہ اسرائیل اپنے دشمنوں کا "پیچھا"جاری رکھے گا اور انہیں "ختم" کرکے دم لے گا۔فوج نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں ایک آپریشن میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ یحییٰ السنوار کی ہلاکت کی تصدیق کر رہی ہے۔ انہوں نے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’ہمارے دشمن چھپ نہیں سکتے۔ہم ان کا پیچھا کریں گے اور انہیں ختم کریں گے"۔

اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے تصدیق کی کہ اسرائیل 7 اکتوبر 2023ء کے حملے میں ملوث تمام افراد کو گرفتاریا قتل کرنے تک اپنا مشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نےغزہ میں زیر حراست "تمام قیدیوں" کو واپس کرنے کا عہد کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے جمعرات کو السنوار کے "خاتمے" کا اعلان کیا۔

کاٹز نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ "آج اجتماعی قاتل یحییٰ السنوار جوسات اکتوبر کے قتل عام اور مظالم کا ذمہ دار تھا کو اسرائیلی فوج نے انجام سے دوچار کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے السنوار کے قتل کو قیدیوں کی رہائی کا ایک "موقع" قرار دیتے ہوئےکہا کہ"غزہ میں ایک گہری تبدیلی کی راہ ہموار ہو گی اور حماس کے بغیر غزہ کے کنٹرول اور ایرانی کنٹرول سے غزہ کو آزاد کرایا جائے گا‘‘۔

اس موقعے پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے السنوار کے قتل کی تعریف کرتے ہوئے غزہ میں زیر حراست افراد کی واپسی کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہرتصوغ نے کہا کہ السنوار سات اکتوبر 2023ء کے حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا اور "اسرائیلی شہریوں کے خلاف برسوں کی گھناؤنی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ذمہ دار تھا"۔ ایکس پلیٹ فارم پر انہوں نے "غزہ میں حماس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں خوفناک حالات میں قید 101 قیدیوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن طریقے سے" کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ یہ بیانات حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کے غزہ کے علاقے جبالیہ میں مارے جانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں