عراقی وزیراعظم کا داعش کے سینیر کمانڈر سمیت آٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے داعش کے’عراق‘ کے سربراہ کو ملک کے شمال مشرق میں حمرین پہاڑی علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی میں مارا گیا ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "میں دہشت گرد تنظیم داعش میں نام نہاد (عراق کے گورنر) اور آٹھ دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت پراپنے عوام مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ کارروائی نیشنل سکیورٹی سروس نے مشترکہ آپریشن میں کی جس میں حمرین کے پہاڑوں میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا‘‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ 14 اکتوبر کو شمال مشرقی عراق میں عراقی سکیورٹی فورسز کے اہدافی فضائی حملوں میں داعش کے چار ارکان مارے گئے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں شحادہ علاوی صالح علیوی البجاری نامی گروپ کی ایک سرکردہ شخصیت بھی شامل ہے جسے ابو عیسیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

عراقی حکام نے کرکوک گورنری کے شمال میں ایک مشترکہ آپریشن میں داعش کے چار ارکان کی ہلاکت کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم کے دفتر کے سکیورٹی میڈیا سیل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی شام عراقی فضائیہ نےشمالی کرکوک گورنری کے شمال میں واقع علاقے شوان کے مضافات میں دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک آپریشن کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "یہ آپریشن سلیمانیہ میں واقع الاسائش ڈائریکٹوریٹ میں کیا گیا۔ درست معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور عراقی جوائنٹ سکیورٹی فورسز کے اشتراک سے کی گئی۔

بیان میں نشاندہی کی گئی کہ یہ کارروائی F-16 طیاروں کے ذریعے کی گئی۔ اس میں ایک کامیاب فضائی حملے میں دہشت گردوں کے اہم اڈے کو نشانہ بنایا گیاْ۔

داعش نے جون 2014 میں موصل اورشمالی گورنری صلاح الدین ، انبار اور مشرق میں دیالی اور شمال میں کرکوک گورنریوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے داعش کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن میں داعش کو شکست دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں