اسرائیل: یرغمالیوں کے خاندانوں کا حماس کے ساتھ معاہدے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے جمعرات کے روز ایک بار پھر اسرائیلی حکومت اور وزیر اعظم نیتن یاہو سے پر زور انداز میں کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل جلد سے جلد معاہدہ کرے۔ یہ اسرائیلی یرغمالی ایک سال سے زائد عرصے سے القسام بریگیڈ کے پاس غزہ کی پٹی پر قید ہیں۔

اسرائیل کے تمام تر جنگی حربوں اور بین الاقوامی طاقتوں کی مدد کے باوجود یہ یرغمالی القسام بریگیڈ کی قید میں ہیں ۔ ایک سال سے زائد پر پھیلی جنگ کے دوران یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسرائیل کو ان یرغمالیوں کی زندہ رہائی کے لیے حماس سے معاہدہ کرنا چاہیے۔ یہی مطالبہ اسرائیلی یرغمالیوں کی اہل خانہ مسلسل کرتے چلے آرہے ہیں۔

یرغمالیوں کے اہل خانہ کے ایک گروپ نے جمعرات کے روز بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے یرغمالیوں کی زندہ واپسی ممکن بنائیں۔

ان اسرائیلی شہریوں نے اپنے مطالبے میں کہا ' ہم نیتن یاہو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حماس کے ساتھ معاہدہ کریں کیونکہ وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔' یہ مطالبہ یرغمالیوں اور لاپتہ اسرائیلیوں کے لیے بنائے گئے فورم سے کیا گیا ہے۔

واضح رہے حماس سربراہ یحییٰ سنوار کے قتل کے بعد سے اسرائیل کی حکومت اس بارے میں مزید سخت موقف پر آگئی ہے کہ اسے جنگ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ حماس نے بھی اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جا سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں