اسرائیل کی فوج نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس کے ایسے کمانڈر کو قتل کیا ہے جس نے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں حصہ لیا تھا اور وہ اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' کے ساتھ بھی وابستہ تھا۔
اسرائیل 'انروا' پر الزام لگاتا ہے کہ اس کے کئی اہلکار حماس کے بھی ممبر ہیں۔ اس سے پہلے جنوری 2024 میں اسرائیل نے 'انروا' کے 12 کارکنوں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں حماس کی مدد کی تھی۔
واضح رہے غزہ میں 'انروا' کے 13 ہزار کارکن کام کرتے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر 'انروا' کارکنوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے۔ ان میں سے 12 پر اسرائیل نے الزام لگایا تھا ۔ جس پر بعد ازاں تحقیقات کی گئیں ۔
'انروا' کے 223 اہلکاروں کو اسرائیل نے غزہ میں بمباری کر ہلاک کیا ہے اور 'انروا' کے سکولوں ، ہسپتالوں اور دفاتر ہر جگہ اسرائیل نے بمباری کی ہے۔
اسرائیلی دعوے کے مطابق اس نے جس حماس کمانڈر کو قتل کیا ہے اس کا نام ابو محمد عطیوی ہے اور اسے بدھ کے روز قتل کیا گیا ہے۔ اس پر الزام تھا کہ وہ اسرائیلیوں کو یرغمال بنانے میں ملوث تھا۔ جبکہ اسرائیلی دعوے کے مطابق وہ جولائی 2022 سے 'انروا' سے بھی وابستہ تھا۔
'انروا' نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک ممبر ابو عطیوی کو بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے اور 'انروا' نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس سال ماہ جولائی میں اسرائیل کی طرف سے موصول ہونے والے خط میں جن 100 ممبران کے مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا ان میں اسرائیل نے عطیوی کا نام بھی شامل کیا تھا۔
دوسری طرف 'انروا' کے کمشنر جنرل نے اس خط کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے جن اہلکاروں کے نام اس فہرست میں شامل کیے ہیں ان کے بارے میں کچھ تفصیلات بھی فراہم کرے تاکہ کارروائی شروع کی جا سکے۔ تاہم ابھی تک اسرائیل نے 'انروا' کے اس خط کا جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ 'انروا' فلسطینیوں کے لیے غزہ، مغربی کنارے، اردن، لبنان اور شام میں امدادی سرگرمیاں ممکن بناتی ہے اور اسرائیل مسلسل 'انروا' کے خلاف مہم شروع کیے ہوئے ہے تاکہ فلسطینیوں کے لیے اس کی خدمات و کوششوں کو روکا جا سکے۔