کنیسٹ نے فلسطینیوں کے لیے قائم اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ' انروا ' پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیلی پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کے لیے قائم کردہ ریلیف ایجنسی ' انروا ' پر پابندی لگاتے ہوئے اسے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ریلیف کا کام کرنے سے مکمل طور پر روک دیا ہے اور کہا ہے یہ ادارہ اب کوئی سرگرمی نہیں کرے گا۔

اس سلسلے میں اسرائیل کی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ایک بل منظور کرتے ہوئے ' انروا ' کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اسرائیل جس کی غزہ میں جاری جنگ کو ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اس نے مسلسل غزہ کو فوجی محاصرے میں لے رکھا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے ریلیف کا کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں سے بھی اکثر ناراض رہتا ہے۔ جبکہ 'انروا' کے خلاف اس نے جنوری میں الزام عائد کیا تھا کہ اس کے 12 کارکن سات اکتوبر 2023 کے حملے میں ملوث تھے۔

واضح رہے 'انروا' کے کل 30 ہزار کارکن ہیں ، جن میں سے 13000 کی تعداد میں غزہ کے بے گھر فلسطینیوں اور ان کے بچوں کو ریلیف دینے کے لیے سرگرم ہے۔ لیکن اسرائیل کی حکومت اس کی سرگرمی روکنے کا معاملہ اپنی پارلیمنٹ میں لے گئی، جہاں حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل پر ووٹنگ ہوئی۔

پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے عمل کے دوران 92 ووٹ اس حکومتی بل کے حق میں اور 10 ووٹ اس کے خلاف ڈالے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ملک جو قائم ہی اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر ہوا تھا اقوام متحدہ کے ہی ایک ادارے پر اپنے اور زیر قبضہ علاقوں پر پابندی لگا دی ہے۔

اب غزہ میں ریلیف کے بچے کھچے کام کو بھی ' انروا ' جاری نہیں رکھ سکے گا۔ غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے ریلیف سرگرمیوں کو یہ بڑا دھچکا لگا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ اس روز کیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں کئی عالمی طاقتیں بڑھ چڑھ کر بول رہی تھیں۔

'انروا ' کے سربراہ فلپ لازارینی نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ' یہ ایک خطرناک مثال ہو گی۔'

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر مزید کہا اسرائیلی پارلیمنٹ میں یہ منظور کیا گیا یہ بل ' فلسطینیوں کے مصائب کو مزید بڑھانے اور گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔ '

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ووٹنگ سے پہلے امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ ' اسے اس بل کے بارے میں سخت تشویش ہے۔ '

کیونکہ غزہ کی پٹی پر انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم میں ایجنسی کا کردار اہم ہے۔ اس سے قبل 15 اکتوبر کو بھی امریکہ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اس بل کو روکے ورنہ وہ اپنے اہم اتحادی کی کچھ فوجی امداد روکنے پر غور کرے گا۔

اس سے قبل پیر کے روز، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل ریلیف کا کام کرنے والے ادارے ' انروا ' پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے۔

یاد رہے جب جنوری 2024 میں اسرائیل کی طرف سے ' انروا ' کے 13000 میں سے 12 اہلکاروں پر الزام لگایا گیا کہ یہ حماس کے ساتھ حملے میں ملوث تھے تو اس کے بعد اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر تحقیقات کرائی تھیں۔ اس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اسرائیل ' انروا' اور حماس کے درمیان روابط کے کوئی ایسے شواہد پیش نہیں کر سکا ہے۔

نتین یاہو نے کہا ہے کہ یہودی ریاست کے دارالحکومت کے عین قلب میں دشمن کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ہے۔ خیال رہے اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دینے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ یاہو نے مزید کہا ' اقوام متحدہ کے ریلیف کا کام کرنے والے ادارے ' انروا' کے دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث اہلکاروں کو ضرور کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔'

یاہو کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد ضرور ملتی رہنی چاہیے۔ اس سلسلے میں اسرائیل اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

حماس نے اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا ' پراسرائیل کی طرف سے لگائی گئی اس پابندی کے بارے میں سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہےکہا یہ صہیونی جنگ کا درحقیقت ہمارے عوام کے خلاف جنگی جارحیت کا ہی ایک حصہ اور حربہ ہے۔

اسرائیل کی طرف سے پابندی کے نتیجے میں' انروا' کی مشرقی یروشلم میں بھی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔ جہاں یہ صفائی ، تعلیم اور صحت کے مختلف منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

اسی طرح مغربی کنارے کے علاقوں میں ' انروا' کے اہلکاروں کی نقل و حرکت اور سفر پر پابندی ہو گی۔ جس کے نتیجے میں وہ ریلیف کا کوئی کام سرے سے کر ہی نہیں سکیں گے۔

اسی طرح ' انروا ' اہلکاروں اور عہدے داروں کے ویزوں کا اجرا بھی متاثر ہو گا اور ان کے لیے غزہ و دیگر مقبوضہ علاقوں تک رسائی روک دی گئی ہے۔ یہ بے گھر کر دیے گئے فلسطینیوں کے لیے ایک نئی مصیبت سے کم نہیں ہو گا۔ 'انروا' کے ایک سال سے زائد پر پھیلی جنگ میں اب تک 223 اہلکار اسرائیلی بمباری سے قتل کیے جا چکے ہیں۔

1949 سے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ' انروا ' کے خلاف پابندی لگائے جانے پر اسرائیلی اتحادیوں برطانیہ، کینیڈا ، جاپان، فرانس، آسٹریلیا ، جرمنی کے وزرائے خارجہ نے بھی تشویش کے اظہار کے لیے رسمی بیانات دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں