ٹرمپ: نیتن یاہو کو لبنان کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے
شام کو اسرائیل کے بجائے حزب اللہ کی فکر کرنی چاہیے: امریکی صدر کا جی سیون سربراہی اجلاس سے خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن لبنان کے حوالے سے انہیں زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، میں نے اسرائیل سے کہا کہ مجھے بیروت پر اس کا حملہ پسند نہیں آیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ شام کو اسرائیل کے بجائے حزب اللہ کی فکر کرنی چاہیے۔
"اگر اسرائیل باقی سب کو مارے بغیر (حزب اللہ کے خلاف) یہ کام نہیں کر سکتا تو (الشرع) یہ کام کریں گے۔ شام یہ کام کرے گا،" شامی صدر احمد الشرع کی "حیرت انگیز کام" کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس میں کہا۔
حزب اللہ کے میڈیا روابط کے دفتر نے منگل کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ حزب اللہ کو اس کے اتحادی ایران نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ کرے گا۔
حزب اللہ نے کہا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ انخلاء کی صورت میں نکلنا چاہیے۔
گروپ نے رائٹرز کو بتایا، "ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی جوہری معاہدہ نہیں ہو گا جب تک کہ اسرائیلی لبنان سے دستبردار نہ ہو جائیں"۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے میں ایک "اہم ترین" مسئلہ ہے۔
غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ بریفنگ کے دوران عراقچی نے کہا، "میں یہاں جس اہم نکتے پر زور دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ہماری نظر میں اس یادداشت کے دو فریق ہیں - ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران اور حزب اللہ"۔ یہ بریفنگ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔
نیز کہا، "یہ شاید یادداشت کا اہم ترین مسئلہ ہے - لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان۔ لبنان میں لڑائی کا خاتمہ جنگ کے مکمل خاتمے کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے۔"
تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا اعلان ہونے کے ایک دن بعد ان کے تبصرے سامنے آئے ہیں۔
مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلاء کے لیے لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیرِ اعظم نواف سلام نے منگل کے روز مذاکرات میں ملک کے مؤقف کی توثیق کی اور بین الاقوامی سرحدوں پر لبنانی فوج کی تعیناتی اور قیدیوں کی واپسی پر زور دیا۔
عراقچی نے کہا، "اس جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بغیر" جنگ کا خاتمہ مکمل نہیں ہو گا۔
نیز کہا، "اب سے لبنان پر صیہونی حکومت کا کوئی بھی فوجی حملہ اور اب سے لبنانی علاقوں پر مسلسل قبضہ ہماری نظر میں مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا"۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "جب تک ضروری ہو"، ان کی افواج لبنان، شام اور غزہ میں موجود رہیں گی۔
پیر کو معاہدے کے اعلان کے بعد حزب اللہ نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی کی کوشش کرنے والی اسرائیلی افواج پر حملہ کیا تھا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہونے کی توقع ہے۔
-
امریکہ ایران معاہدے کے بعد جنوبی لبنان پر پہلا اسرائیلی حملہ، ایک لبنانی ہلاک
لبنانی میڈیا نے پیر کے روز اسرائیل کی جانب سے جنوبی حصے میں ایک اسرائیلی حملے کی ...
مشرق وسطی -
امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ ، لبنانی صدر کی طرف سے معاہدے کا خیر مقدم
لبنان کے صدر جوزف عون نے پیر کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی ...
مشرق وسطی -
میں ہمیشہ ٹرمپ سے متفق نہیں ہوتا... اسرائیل لبنان سے انخلا نہیں کرے گا : نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات امریکی صدر ڈونلڈ ...
مشرق وسطی