اسرائیل اور اس کے مقابل لڑنے والے حماس اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی امید جمعہ کے روز اس وقت کمزور بڑھتی محسوس ہوئی جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ایک بار پھر بدترین بمباری کر کے کم از کم 68 فلسطینیوں کو قتل کر دیا۔
غزہ کی وزارت صحت کے حکام نے جہاں اپنے ہاں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے وہیں لبنانی وزارت صحت نے دارالحکومت کے جنوبی مضافات میں ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کی تصدیق وہاں ہونے والے لبنانیوں کی ہلاکتوں کے بعد کی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے القسام بریگیڈ کے جنوبی غزہ میں باقی رہ گئے ایک اہم کمانڈر کو اس بمباری میں قتل کیا ہے جو القسام کی باہمی رابطہ کاری کا واحد ذریعہ رہ گیا تھا۔ یہ کمانڈر القسام کے علاوہ دیگر فلسطینی گروپوں کے درمیان رابطوں کا ذریعہ تھا۔
اسرائیل نے بمباری کی بدترین کارروائی غزہ اور بیروت میں اس وقت کی ہے جب امریکی حکام اسرائیلی حکام کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور دوحا میں ایک وقفے کے بعد مذاکراتی سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ مگر اسرائیلی فوج نے گویا اس مذاکراتی عمل اور جنگ بندی کی اعلان کردہ کوششوں پر بھی بمبابری کر دی ہے۔
امریکہ کے تعاون سے مختصر جنگ بندی کی جو تجویز سامنے آئی ہے، حماس نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی عارضی جنگ بندی سے متفق نہیں، نیز جنگ بندی کی تازہ تجویز ان حقائق سے تعلق نہیں رکھتی جو درپیش ہیں۔ ایک سال سے زائد عرصے پر پھیلی جنگ کو لازما اب رکنا چاہیے اور اسرائیلی فوج کو غزہ سے نکلنا چاہیے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا ان کی ترجیح یہ ہے کہ کسی دباؤ یا رکاوٹ کے بغیر اپنی سکیورٹی کو بڑھانا ہے۔ ان کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے یہ بات امریکی نمائندوں آموس ہوچیسٹن اور بریٹ مکگرک کو جمعرات کے روز ہونے والی ملاقاتوں میں بتا دی گئی ہے۔
اسی دوران جمعہ کے روز اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف اپنا فوجی دباؤ بڑھانے کی کوشش اور بیروت کے جنوبی مضافات میں بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر کے حزب اللہ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
غزہ میں موجود طبی عملے کے ارکان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے جمعہ کے روز کم از کم 68 فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔ جبکہ درجنوں زخمی کیے گئے ہیں۔ بمباری کا یہ سلسلہ جمعرات کی رات سے شروع ہو کر جمعہ کے روز تک نصیرات ، دیر البلاح اور الزوائدہ میں جاری رکھا گیا۔ یوں جنوبی اور وسطی غزہ میں بیک وقت بمباری کی گئی ۔
نصیرات کے علاقے میں ایک سکول میں قائم کردہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری سے 14 بے گھر فلسطینی قتل کیے گئے۔ ان لوگوں نے اپنے گھر اسرائیلی بمباری سے پہلے تباہ ہو چکنے کے بعد اس کیمپ میں پناہ لی تھی۔
العودہ ہسپتال کے طبی عملے کے ارکان نے بتایا ہے کہ اسرائیلی بمبار طیاروں نے بمباری کر کے مزید 10 بے گھر فلسطینیوں کو قتل کر دیا۔ اسی طرح جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس کے علاقے میں بھی بمباری کی گئی۔
بمباری کے چند گھنٹے بعد ان علاقوں میں موجود بے گھر فلسطینیوں نے بتایا کہ نصیرات کے مشرقی حصے میں اسرائیلی ٹینک آگے بڑھ رہے تھے۔ جبکہ طبی عملے کے مطابق ایک اور بمباری کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے مزید تین بچوں سمیت چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا۔
تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے انہی افراد کو قتل کیا ہے جنہیں وہ دہشت گرد کہتی ہے۔ جو وسطی اور شمالی غزہ میں موجود ہیں۔ یہ کہتے ہوئے اسرائیلی فوج نے اپنی عادت کے مطابق فلسطینی شہریوں کے قتل کی تردید کی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق و دیگر شعبوں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کی صورت حال بڑی خوفناک ہے کہ وہاں کے فلسطینی بیماریوں ، قحط اور بمباری کی زد میں ہیں۔ کہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ اس علاقے میں القسام کے دورباہ منظم ہونے کی وجہ سے بمباری کرتا ہے۔
اسی روز اسرائیلی فوج نے بیروت پر بھی بمباری کی ہے۔ بیروت کے جنوبی مضافات میں صبح سویرے بمباری کی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' کے مطابق کم از کم 10 جگہوں پر بمباری کی گئی ہے۔ یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جسے جنوبی لبنان میں نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل کی یہ نئی بمباری اس حکم کے بعد سامنے آئی ہے جو اسرائیل نے اس علاقے کے لوگوں کے لیے جاری کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں اور علاقے سے نکل کر چلے جائیں۔
حسن سعد نے بیروت کی گلیوں میں 'رائٹرز ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' یہ ایک بے رحم جنگ ہے۔اسرائیل کو ہمارے گھروں اور شہروں پر بمباری کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسرائیل نے ہر انسانی اور اخلاقی ضابطے کو پامال کر دیا ہے۔ '
ایک اور لبنانی شہری علی رمضان نے بیروت میں ہی ' روئٹرز ' سے بات چیت میں کہا 'اسرائیل اپنی شرائط کے ساتھ جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے لبنانیوں پر اس طرح کی بمباری کر رہا ہے۔ '
واضح رہے لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے ماہ ستمبر کے آخری ہفتے سے اب تک کم از کم 2897 لبنانیوں کو قتل کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی بمباری سے یہ تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے۔ لبنانی نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے مذاکرات کی ہر پیش رفت کو روک رہا ہے۔
اسرائیل نے بیروت اور بعلبک سمیت لبنان کے تقریباً ایک درجن شہروں اور قصبوں کو بمباری سے نشانہ بنا لیا ہے۔ جمعہ کے روز لبنان میں کم از کم 50 لبنانی شہری اسرائیل بمباری سے قتل ہوئے ہیں۔
ادھر غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 43 ہزار سے بھی کئی سو اوپر جا چکی ہے۔ مگر اسرائیلی بمباری تھمنے کی نہیں ہے۔ ایسے میں جنگ بندی کی امید بھی دم توڑ رہی ہے۔ ایک جانب جنگ بندی تجاویز پیش کی جارہی ہوتی ہیں اور دوسری جانب اسرائیل بمباری کر رہا ہوتا ہے۔