لبنان کی طرف سے بدھ کے روز اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیلی پیجرحملے کے خلاف ٓاقوام متحدہ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست اقوام متحدہ کی لیبر سے متعلق ایجنسی کو پیش کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے یہ حملے ماہ ستمبر میں پورے ملک میں کیے گئے اور پیجر نامی ڈیوائس کو نشانہ بناتے ہوئے لبنانی شہریوں کو بڑی تعداد میں ہلاک اور زخمی کیا گیا۔
لبنان کے وزیر محنت مصطفیٰ بیرام نے ان پیجر حملوں کو انسانیت کے خلاف سنگین نوعیت کی جنگ کی صورت تھے ۔ خصوصاً ایسے وقت میں لبنانی شہری اپنی ملازمت اور ڈیوٹی پر موجود تھے۔ وزیر محنت کے مطابق یہ درخواست عالمی ادارہ محنت کے دفتر واقع جنیوا میں جمع کرائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا ' یہ بہت خطرناک نظیر ہے جو لبنانی لوگوں کو پیجر ڈیوائس کے ذریعے خوفناک حملے کا نشانہ بنا کرکی گئی ہے۔ لبنانی وزیر جنیوا میں رپورٹرز ایک تقریب کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔
واضح رہے اسرائیلی نے لبنان میں ہزاروں شہریوں کو ماہ ستمبر میں پیجر اور واکی ٹاکیز کے استعمال کے دوران حملوں کا نشانہ بنایا تھا ، جب اسرائیلی فوج لبنانی دارالحکوت بیروت پر اپنی بمباری کا سلسلہ شروع کررہی تھی اوراس نےحزب اللہ کے جنوبی بیروت میں مضبوط گڑھ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ نوبت اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان اسرائیلی سرحدوں پر تقرباً ایک سال کی جھڑپوں کے بعد آئی تھی۔ حزب اللہ نے غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پچھلے سال 8 اکتوبر 2023 کو سرحد پر جھڑپوں کو آغاز کیا تھا۔
تاہم اسرائیل نے ان پیجر اور واکی ٹاکی حملوں کی باقاعدہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ پیجر حملون نے ایک ہی روز چند لمحوں میں 4000 سے زائد لبنانی کو ہلاک و زخمی کر دیا تھا۔ ان زخمیوں میں کئی کی انگلیاں ضائع ہو گئیں۔ بہت سوں کی بینائی ضائع ہو گئی۔
لبنانی وزیر محنت نے کہا ہم اس واقعے کے بعد ایسی صورت حال میں ہیں کہ روزمرہ کے استعمال کی ڈیوائسز بھی ہمارے لوگوں کے لیے جان لیوا اور خطرناک بنا دی گئی ہیں۔ اگر اس سنگین جرم کو نظر انداز کر دیا گیا تو اس طرح کے واقعات معمول بن سکتے ہیں اور پھر یہ کہیں بھی کسی کے ساتھ بھی رونما ہونے لگیں گے۔
انہوں نے کہا یہ میرے ملک اور پوری دنیا کی ذمہ داری ہے کہ اسے روکنے اور چیک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان سے اس موقع پر پوچھا گیا کہ لبنان نے یہ درخواست محنت کے عالمی ادارے کے پاس ہی کیوں جمع کرائی، اس پر ان کا کہنا تھا چونکہ پیجراور واکی ٹاکی استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنائے گئے سبھی لوگ کارکن تھے اور اپنے کاموں پر کھڑے تھے کہ اچانک ان کے پیجر اور واکی ٹاکیز ان کے ہاتھوں اور جیبوں میں پھٹنے لگیں۔
لبنانی وزیر نے کہا ہم ابھی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں بھی درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاکہ تمام متعلقہ فورمز کو اس بارے میں اپنا کرداد ادا کرنے کے لیے متوجہ کریں۔
-
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 37 دیہات صفحہ ہستی سے مٹا دیے،نقصانات کاتخمینہ چار ارب ڈالر
لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق وہ حزب اللہ کے خلاف جنگ میں ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے لبنان کی سرحد کے قریب شامی قصبے پر حملہ کر دیا: سرکاری میڈیا
شام کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی کہ منگل کے روز اسرائیل نے "جارحیت" کا مظاہرہ کرتے ...
مشرق وسطی -
بیروت کے جنوب میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 20 ہلاک، لبنانی امدادی کارکنان کاجگہ کامعائنہ
چودہ زخمی، ہلاکتوں میں اضافے کا امکان
مشرق وسطی