با خبر ذرائع کے مطابق اسرائیل نے عراق میں اُن ایران نواز مسلح گروپوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جو غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیل کی سمت راکٹ اور میزائل داغتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار "معاریف" کے مطابق ان ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ اسرائیلی اقدام عراق کی جانب سے کسی بھی جارحیت کے ریکارڈ ہونے کی صورت میں کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت ایران نواز ان گروپوں کے بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے بعد ان مسلح گروپوں کی قیادت کے خلاف اسی طرز پر ہلاکتوں کی کارروائیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا جیسا کہ شام میں ہو رہا ہے۔
عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین یہ باور کرا چکے ہیں کہ وزیر اعظم محمد شياع السودانی نے مسلح گروپوں کی قیادت کو قائل کیا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں جنگ کے انگارے کا سامنا کرنے کے لیے عراقی حکومت کے منصوبے کے تحت عمل کریں۔ گذشتہ ہفتے دیے گئے بیان میں فؤاد حسین کا کہنا تھا کہ "عراقی گروپوں کی قیادت حکومت کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کر رہی ہے۔ وہ ایسی صورت حال پیدا کرنے کے درپے نہیں ہیں جس کے نتیجے میں ملک کے خلاف جنگ شروع ہو جائے"۔
ان کا کہنا تھا کہ عراقی گروپوں کے قائدین نے وزیر اعظم السودانی سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایسا کوئی طریقہ اختیار نہیں کریں گے جس سے ملک کے خلاف جنگ چھڑ جائے یا پھر کوئی سخت رد عمل سامنے آئے۔
بغداد حکومت جو ایران کی حامی جماعتوں کے سہارے سے اقتدار تک پہنچی ہے، صورت حال کو متوازن بنانے کے لیے کوشاں ہے تا کہ مشرق وسطیٰ کو درپیش کشیدگی سے ملک کو دور رکھا جا سکے۔ یہ کشیدگی اسرائیل کی غزہ کی پٹی میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے بیچ گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے دیکھی جا رہی ہے۔