صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے حکام نے 13 اکتوبر کو اسرائیل کی حکومت کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ سابقہ چینلز کام نہیں کر رہے تھے اور اس مہینے کے اختتام سے پہلے آن لائن ملاقات کرنے کی غرض سے ایک نئے چینل کے لیے کہا گیا۔
امریکی محمکۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ پہلی میٹنگ اِن واقعات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے طے کی گئی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے امریکہ کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا استعمال "باعثِ تشویش ہے یا اس پر سوال اٹھتا" ہے۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ میٹنگ کہاں ہو گی۔
ملر نے مزید کہا، "ہم جمع کردہ تمام معلومات کو اپنے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی دونوں کے عمل میں شامل کرتے اور مدِ نظر رکھتے ہیں جو ہمیں بین الاقوامی انسانی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں کرنا ہوتے ہیں اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔"
ملر نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا نیا چینل اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں امریکی حکومت کے جائزوں کو تیز کرے گا اور 20 جنوری کو بائیڈن کے دفتر چھوڑنے سے پہلے کسی بھی جائزے کا عہد نہیں کیا۔
انہوں نے کہا، "ہمارا کام پہلے ہی اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جتنا ہم ممکنہ طور پر کر سکتے ہیں لیکن یہ مشکل جائزے ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے۔"
غزہ جنگ کے معاملے میں بائیڈن نے اسرائیل کی مضبوطی سے حمایت کی ہے لیکن اسرائیل کے طرزِ عمل اور فلسطینی شہریوں پر اس کے اثرات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
ذرائع نے گذشتہ ماہ بتایا کہ امریکی حکام نے سات اکتوبر 2023 کے بعد سے فلسطینی انکلیو میں شہریوں کو نقصان پہنچانے کے تقریباً 500 ممکنہ واقعات کی نشاندہی کی تھی۔
لیکن ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ خارجہ کے ایک طریقہ کار کے تحت کسی بھی واقعے پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ طریقہ کار ان واقعات کا جائزہ لینے کے لیے ہوتا ہے جہاں امریکی فراہم کردہ ہتھیاروں سے عام شہری ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں اور مستقبل میں نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کی سفارش کرتا ہے۔