ایران نے پیش کش کی ہے کہ وہ یورینیم کے جمع شدہ ذخیرے میں اضافے سے گریز کر سکتا ہے اور یورینیم کی افزودگی کو60 فیصد تک محدود رکھ سکتا ہے۔ یورینیم کی افزودگی کی سطح جوہری ہتھیارسازی کے لیے یورینیم کی افزودگی 90 فیصد مطلوب ہوتی ہے۔
یہ بات بین الاقوامی سطح پر ایک 'واچ ڈاگ ' کے طور پر کام کرنے والے جوہری مانیٹرنگ کے ادارے نے اپنے عہدے دار کے حالیہ دورہ ایران کے بعد اپنی خفیہ دستاویز میں کہی ہے۔ یہ رپورٹ ممبر ممالک کو پیش کی گئی ہے۔
تاہم کہا گیا ہے کہ ایران کی یہ پیش کش مشروط ہے۔ کہ مغربی ممالک ایران کے اس ہفتے کے دوران لگائی قدغنوں کو بھی واپس لیں۔ واضح رہے' آئی اے ای اے' 35 مملکوں پر مشتمل بورڈ آف گورنر رکھتا ہے۔ جس نے یہ فیصلہ ایران پر عدم تعاون کے الزام کے ساتھ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے برقرار ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے پچھلے ہفتے ایران کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے ' امکان ہے کہ ایران یورینیم کی افزوگی کو 60 فیصد کی حد سے آگے نہیں لے جائے گا۔ ' رپورٹ میں یہ تصدیق بھی کی گئی ہے کہ ایران نے اس سلسلے میں تیاری شروع کر دی ہے۔'
رپورٹ کے مطابق ایران نے پیش کش کی ہے وہ یورینیم کی افزودگی کو ساٹھ فیصد تک روک سکتا ہے، یہ وزن میں 185 کلو گرام ہوگی۔ یہ مقدار دو دن پہلے تک کی تھی۔ اس رپورٹ کے لکھنے والے سفارت کار کا کہنا ہے کہ یہ اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ کافی ہے۔ خیال رہے ایران جوہری ہتھیار بنانے کی بھی تردید کرتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ 26 اکتوبر 2024 سے پہلے ایران کے پاس ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کا معلوم ذخیرہ 17.6 کلو گرام کا تھا ۔ 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق 182 کلو گرام سے تھوڑی زیادہ ہے۔ جو چار جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔
ایران نے اس امر سے بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ مزید چار انسپیکٹرز کو بھی ایران آنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔ پچھلے سال ایران نے 'آئی اے ای اے' کے زیادہ تر معائنہ کاروں کو روک دیا تھا۔ اس سلسلے میں سینیئر سفارت کار کا کہنا ہے یہ نئے معائنہ کار یورینیم افزودگی کے ماہرین ہو سکتے ہیں۔ وہ معائنہ کار نہیں جن پر ایران نے پہلے روک لگا دی تھی۔
ایران کے نئے صدر مسعود پیزشکیان چاہتے ہیں کہ ' آئی اے ای اے ' کے ساتھ پہلے سے جاری کھینچا تانی ختم ہو۔ اس لیے اس بین الاقوامی ادارے کو ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مزید مقامات تک رسائی کی اجازت دینے پر بات ہو سکتی ہے۔
یاد رہے یہ حالیہ قدغنوں کے لیے قرارداد برطانیہ، فرانس ، جرمنی وغیرہ کی تیار کردہ تھی جبکہ امریکہ نے ان کی حمایت کی تھی۔ کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں تعاون نہیں کرتا ہے۔ اس نئے دباؤ کا مقصد ایرانی جوہری کوششوں کو واپس2015 سے پہلے والی سطح پر لانا ہے۔