اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلانٹ کی گرفتاری کے لیے کل جاری کیے گئے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کے خلاف اسرائیل اور اس کے تمام حکام کی طرف سے پرتشدد تنقید کی گئی اور اب اب توجہ اگلے مرحلے کی طرف مبذول ہو گئی۔
اسرائیل کی تاریخ کی سب سے ڈرامائی قانونی پیش رفت
گزشتہ روز جمعرات کو اسرائیلی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے 124 رکن ممالک اسرائیلی وزیراعظم اور ان کے سابق وزیر دفاع سے ملاقات نہیں کر سکیں گے۔
اس بارے میں تل ابیب یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ایلیو لیبلچ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے ڈرامائی قانونی پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے منسلک 124 ریاستوں کے فریق، جن میں اسرائیل کے سب سے قریبی اتحادی شامل ہیں، قانونی طور پر پابند ہوں گے کہ وہ اگر اپنی سرزمین پر نیتن یاہو اور گیلنٹ کو پائیں تو ان دونوں کو گرفتار کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے وسیع تر اثرات بھی ہو سکتے ہیں جو تیسرے فریق کی اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتے ہیں۔
پروفیسر ایلیو لیبلچ نے یہ بھی کہا ہے کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد بین الاقوامی فوجداری عدالت رکن ممالک کو تعاون کی درخواستیں بھیجے گی کیونکہ گرفتاریوں کے لیے اس کے پاس اپنی پولیس فورس نہیں ہے۔ عدالت اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے رکن ممالک پر انحصار کرتی ہے۔ ریاستیں قانونی طور پر ایسا کرنے کی پابند ہیں۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ سابق رہنما جن کے خلاف ماضی میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے انہیں سفر کرنے کی اہلیت پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ وہ ان ممالک سے گزرنے سے قاصر تھے جو قانونی طور پر ان کو گرفتار کرنے کے پابند تھے۔ جمعرات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
جواب میں باخبر ذرائع نے اطلاع دی کہ نیتن یاہو کی حکومت نے آئی سی سی کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے دستیاب آپشنز کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ اس کی اطلاع اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے دی تھی۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ تجویز کردہ آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ آیا اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کی ہے یا نہیں اس کی سنجیدہ اور آزاد تحقیقات کا اعلان کیا جائے۔
احکامات پر عمل در آمد
واضح رہے بین الاقوامی فوجداری چارٹر پر دستخط کرنے والے تمام 124 ممالک نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔
اس کی وجہ سے اسرائیلی حکام بڑے پیمانے پر محصور ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر جب سے فرانس، ہالینڈ، بیلجیئم اور دیگر نے کل تصدیق کی تھی کہ وہ ان کی گرفتاری کے پابند ہیں۔
-
آئی سی سی کے اقدام کے بعد ہم نیتن یاہو کو ہنگری آنے کی دعوت دیں گے: وزیرِ اعظم ہنگری
جمہوریہ چیک کے وزیرِ اعظم کی نیتن یاہو اور الضیف کو برابر قرار دینے پر مایوسی
بين الاقوامى -
نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری: چین کا آئی سی سی پر غیر جانبدار نکتۂ نظر برقرار رکھنے پر زور
امریکہ کے دوہرے معیارات پر چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی تنقید
بين الاقوامى -
بین الاقوامی فوج داری عدالت کا فیصلہ ، نیتن یاہو حکومت کا آئندہ لائحہ عمل پر غور
بین الاقوامی فوج داری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ...
بين الاقوامى