سعودی عرب توانائی کی منتقلی سے مستفید ہونے والا واحد ملک ہے:وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ پائیداری کے حصول میں توانائی کے تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے آج منگل کو سعودی گرین انیشیٹو فورم سے خطاب میں مزید کہا کہ ہم دوسروں کے ساتھ اشتراک کے بغیر بہترین نہیں ہو سکتے۔

سعودی وزیر توانائی نے کہا کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جو ’’توانائی کی منتقلی‘‘ سے مالی طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت صرف اس کے بارے میں بات کرنے کے بجائے "توانائی کی منتقلی" کے مرحلے کا سامنا کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دس لاکھ بیرل تیل کو گیس اور قابل تجدید توانائی سے تبدیل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے "سعودی ویژن 2030" کے اہداف کے حصول اور آنے والی نسلوں کے خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے مملکت کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

سعودی عرب کے توانائی کے وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مملکت کی جاری کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے توانائی کی فراہمی کی حفاظت کو بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی مختلف شعبوں میں پائیداری کے حصول کے لیے سب سے اہم ستون ہے۔

انہوں نے مملکت میں جاری ماحولیاتی اور موسمیاتی اقدامات کی وسیع رینج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت عالمی سطح پر ان اقدامات کے اعلیٰ ترین اثرات کو یقینی بنانے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے امکانات کو فروغ دے رہی ہے۔

انہوں نے ماحولیاتی اقدامات کی ترقی اور سب کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر میں نوجوانوں کے اہم کردار پر زور دیا۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے مملکت کی طرف سے لاگو کیے گئے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے حجم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی کوششیں توانائی کے شعبے میں سبز منتقلی کے سفر کو تیز کرنے کے متوازی طور پر کارکن کے اخراج کو کم کرنے میں معاون ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں