ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر نے کہا ہے کہ شام میں ان کے اتحادی بشار الاسد کے زوال کے بعد اسلامی جمہوریہ کمزور نہیں ہوا ہے۔
حسین سلامے نے بند کمرے کے ایک اجلاس میں پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا، "ہم کمزور نہیں ہوئے اور ایران کی طاقت میں کمی نہیں آئی ہے۔"
2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے ایران اور روس نے فوجی معاونت، افرادی قوت اور فضائی طاقت کے ذریعے الاسد کی حکومت کو مدد فراہم کی۔ تہران نے اپنے اتحادی کو اقتدار میں رکھنے کے لیے اپنی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کو شام میں تعینات کیا تاکہ وہ اسرائیل اور شرقِ اوسط میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف تہران کا "محورِ مزاحمت" برقرار رکھے۔
تہران کی طاقت کے استعمال اور پورے خطے میں ملیشیا گروہوں کا نیٹ ورک بالخصوص لبنان میں اس کی اتحادی حزب اللہ کو برقرار رکھنے کی صلاحیت الاسد کے خروج سے ختم ہو گئی ہے۔
سلامے نے شام کی تازہ ترین پیشرفت پر گفتگو کے لیے ہونے والے اجلاس میں کہا کہ صیہونی حکومت [اسرائیل] کا تختہ الٹنا ایجنڈے سے باہر نہیں ہے۔
سلامی نے کہا کہ شام میں کوئی ایرانی فوج باقی نہیں رہی۔
الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایران کی وزارتِ خارجہ نے شامی معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرنے والی ایک جامع حکومت کی تشکیل کے لیے قومی مذاکرات کا مطالبہ کیا۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کے روز "شام کی علاقائی سالمیت کے احترام" پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شامی عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔