امریکہ نے زور دے کر کہا ہے کہ شام میں اس وقت جو بھی حکومت ہے، اسے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنا چاہیے۔ یہ بات امریکی ترجمان میتھیو ملر نے 'العربیہ' کے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے کہی ہے۔
ملر نے کہا 'شام میں جہاں بھی کیمیائی ہتھیار ملیں، شام کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا خاتمہ کرے اور ان علاقوں کو کنٹرول میں لے جہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔'
اس سے پہلے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ شام کی اگلی حکومت شام کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ بننے دے۔ نیز یہ بھی یقینی بنائے کہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار کا جہاں کہیں بھی ذخیرہ ہو اسے تباہ کرے۔
وآضح رہے 'ھیتہ التحریر الشام' کی مسلح فورسز نے اتوار کے روز بشار الاسد کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد محمد البشیر کے زیر قیادت ایک نئی عبوری حکومت کے قیام کا منگل کے روز اعلان کیا ہے۔
اس صورتحال میں ملر نے 'العربیہ' کے سوال پر کہا 'آپ نے دیکھا ہے کہ 'ایچ ٹی ایس' نے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور بہت ممکن ہے کہ 'ایچ ٹی ایس' نے اس زمینی قبضے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر کو بھی قبضے میں لیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ان کیمیائی ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات نہ ہوں کہ ابھی ان کے پاس دمشق قبضے میں آئے ہوئے صرف دو دن ہوئے ہیں۔'
لیکن امریکی ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا 'کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے کی ذمہ داری زیادہ اہم ہے۔ یہ ذمہ داری 'او پی سی ڈیبلیو' (تنظیم برائے انسداد کیمیائی ہتھیار) کی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تصدیق کرنے کے لیے کوششیں کرے۔'
ملر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کسی ملک یا اقوام متحدہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے لیے بین الاقوامی تنظیم کی ذمہ داری ہے۔
ادھر شام میں پیداشدہ صورتحال کے بعد اسرائیل نے شام اور اسرائیل کے درمیان قائم کردہ غیر فوجی علاقے 'بفر زون' میں اپنی فوجوں کی تعیناتی کی ہے۔ جو شام کے جنوب مغربی علاقے میں گولان کی پہاڑیوں سے جڑا ہوا ہے۔
گولان کی پہاڑیاں اسرائیل نے پچھلے تقریباً 60 سال سے اپنے قبضے میں لے رکھی ہیں۔ نیتن یاہو نے اس بارے میں پچھلے دنوں کہا تھا کہ یہ اب اسرائیل کا حصہ ہیں۔
امریکہ بھی 2019 میں اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم کر چکا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا حصہ ہیں۔ اسرائیل نے یہ پہاڑیاں 1967 اور 1973 میں قبضے میں کی تھیں۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے 'العربیہ' کے ایک سوال پر کہا کہ امریکہ کا یہ طویل عرصے سے مؤقف ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی درمیان تنازعے کا حل دو ریاستی ہے۔ 1967 میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے علاقوں پر ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو اور ہم نے اس سلسلے میں کئی اقدامات بھی کیے ہیں اور ہماری کوششیں جاری بھی ہیں۔'
غزہ کی صورتحال
میتھیو ملر نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'اگرچہ امریکہ قانونی طور پر ان تنظیموں کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے جنہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہو لیکن حماس کے ساتھ امریکہ نے مذاکرات ابھی تک اس لیے نہیں کیے کہ ہمارے پاس مذاکرات کے لیے بہتر آپشنز موجود تھیں۔'
یاد رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ میں اب تک 44786 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نےغزہ میں سب سے زیادہ بچوں اور عورتوں کو قتل کیا ہے۔ تاہم یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔
اس سلسلے میں امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم بڑی مؤثر کوششیں کر رہے ہیں تاکہ ثالثی ہو سکے۔ تاہم امریکہ کو کبھی اس چیز کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ براہ راست حماس سے بات کرے چونکہ اس کے پاس قطر اور مصر کی طرح کے ثالث موجود ہیں۔
-
ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کا شام کے 70 فیصد حصے اور ایس ڈی ایف20 فی صد پر کنٹرول
حلب شہر کے شمال مشرق میں واقع منبج سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے انخلاء کے بعد اس ...
مشرق وسطی -
شامیوں کو اپنا بحران خود حل کرنا چاہیے کیونکہ ہماری ترجیح مختلف ہے: ٹرمپ
اپنی انتخابی مہموں کے دوران ماضی میں بار بار روس۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرنے ...
بين الاقوامى -
میں نے بشارلاسد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا:شامی وزیراعظم
شام میں عبوری حکومت کے اعلان کے ایک دن بعد شام کے سابق وزیر اعظم محمد الجلالی نے ...
مشرق وسطی