سعودی صحرا نورد مہمات سفر پر، 18 دنوں میں 600 کلومیٹر کا صحرا پیدل عبور کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کو ایک نئی عزت اور شہرت دینے کا باعث بننے والا سعودی مہم جو طویل صحرائی علاقے کو پیدل عبور کرے گا۔ مملکت کے تاریخی سفر کا آغاز رب الخالی نامی ایک صحرا میں ہوگا جو دنیا میں سب سے بڑا اور مسلسل صحرائی ٹکڑا ہے۔

یہ مہم جو صحرا نورد بدر الشیبانی ہے۔ جو چھ لاکھ پچاس ہزار مربع کلو میٹر کا یہ صحرائی قطعہ پیدل عبور کرے گا ۔ اس غیر معمولی مہم کا آغاز اتوار کے روز سے ہورہا ہے۔ سفر جنوب سے شمال مشرق کی طرف ہو گا۔ اس چھ سو کلو میٹر کے صحرائی سفر کے دوران الشیبانی کو لاجسٹک کی امداد البتہ حاصل رہے گی۔ ان کی ٹیم ان کے ساتھ رہے گی۔

وہ اس صحرا کو عبور کرکے نہ صرف ایک ریکارڈ قائم کریں گے کہ آج کے دور میں بھی ایسے مہم جو موجود ہیں ۔ مزید وہ اس صحرا کو دستاویز اور تصاویر میں محفوظ کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ تاکہ اس قدرتی اور ثقافتی اہمیت کے حامل صحرا کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے 'اس مہماتی سفرکے بعد سعودی عرب کی نئی نسل اس طرح کے چیلنجوں کو قبول کرے گی اور اپنی صلاحیتوں کو بیدار کر کے جفاکشی کے تجربے سے گذرنا پسند کرے گی۔ جو عربوں کی روایت رہی ہے۔ '

مزید کہا 'یہ میری مہم جوئی کی زندگی کا بھی ایک خوبصورت چیلنج ہو گا کہ میں اپنی محبوب مملکت کی اس خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے سفر پر روانہ ہورہا ہوں۔ عفیف ریجن کے علاقے ام حدید سے اس صحرائی سفر کا آغاز ہو گا اور 18 دن بعد مکمل ہو گا۔'

الشیبانی نے کہا ' میں اپنے اس مہم جویانہ سفر کے لیے بہت پر جوش ہوں ۔ اگرچہ میں نے صحرا نوردی دنیا بھر میں کی ہے ، لیکن یہ اس لیے مجھے بہت پسند ہے کہ یہ ہماری اپنی مملکت میں ہے۔ '

واضح رہے مملکت کے ویژن 2030 میں صحرائی مہم جوئی کو ایک خاص سیاحتی اہمیت دی گئی ہے۔ اس مہماتی سفر کے بعد دنیا بھر کے سیاحوں اور صحرا نوردوں کے لیے بھی ایک نئی مہم جوئی کی راہ ہموار ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں