ہم نے ابھی شام میں اپنے اڈوں کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے بارے میں بہت سے سوالات کے جلو میں ماسکو نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیرکو ایک پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ ان اڈوں کے مستقبل کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا اڈوں کی قسمت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور کیا یہ رپورٹس کہ ماسکو نے شام کے بجائے لیبیا کو اپنے اڈے قائم کرنے کے لیے ایک نئی جگہ پر غور کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

اُنہوں نے انہوں نے کہا کہ ملک "اس وقت شام میں حالات کو کنٹرول کرنے والی افواج کے نمائندوں سے رابطے میں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان معاملات کا تعین بات چیت کے ذریعے کیا جائے گا۔

دو فوجی اڈے

یہ بیانات تین روز قبل ایک باخبر ذریعے کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ روس ملک کی سرزمین پر اپنے فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کے لیے شام کے نئے حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

شام میں روس کے دو فوجی اڈے ہیں: ایک اڈہ طرطوس میں روسی بحریہ کا ہے۔ یہ لاجسٹکس سینٹر دو طرفہ معاہدے کے تحت 1971ء میں طرطوس میں سوویت اڈہ قائم کیا گیا تھا۔ دورا اڈہ اللاذقیہ حمیمیم ایئر بیس سے 20 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے جو 30 ستمبر 2025ء کو قائم کیا گیا تھا۔ روس کا کہنا تھا کہ اس اڈے کا مقصد داعش کے خلاف جنگ کرنا تھا۔

کریملن کا یہ تبصرہ باخبر ذرائع کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ روسیوں نے گذشتہ دنوں شام سے کچھ گاڑیاں اور افراد واپس بلا لیے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں اڈے جوں کے توں موجود ہیں۔

گذشتہ ماہ کے اواخر میں التحریر الشام اور اس کے اتحادی مسلح دھڑوں نے شامی مسلح افواج پر اچانک حملہ کیا۔اس نے اسے پے در پے شکست دیتے ہوئے حلب، پھر حماہ ، حمص اور پھر دمشق کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں