مصر: شامیوں کے قیام کے اجازت ناموں کی تجدید کے لیے نئی شرط عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں حالیہ پیش رفت اور سابق صدر بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد مصر نے اپنی سرزمین پر شامیوں کے قیام کی تجدیدی شرائط پر دوبارہ سے غور شروع کر دیا ہے۔ یہ شامی ماضی میں فرار ہو کر مصر آ گئے تھے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق مصری سیکورٹی ذرائع نے ملک میں موجود شامیوں کے قیام کے اجازت ناموں (اقامہ) کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور اگلے نوٹفکیشن تک اقاموں کی تجدید روک دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی اقامے کی تجدید کے لیے سیکورٹی منظوری بنیادی شرط ہو گئی ہے۔ ان اقدامات کا اعلان گذشتہ روز ایک سرکاری پوسٹ میں کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 3 سیکورٹی ادارے اس وقت شامیوں کے تمام اقاموں کا جائزہ لے رہے ہیں اور مصر میں داخلے کے حوالے سے کسی بھی سابقہ استثناء کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک کی فہرست کی جانچ کے بعد سیکورٹی اداروں نے کئی شامیوں کا تعین کیا ہے جن کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ملک سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح نجی حیثیت سے مالی رقوم کی منتقلی پر پابندیاں عائد کی جائیں گی تا کہ ان رقوم کو ایسے مشتبہ امور میں استعمال نہ کیا جا سکے جو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوں۔
اسی طرح شامیوں کی جانب سے مصر میں ریستوران یا کمپنی کھولنے یا کوئی بھی نجی کاروبار شروع کرنے کے لیے پیشگی سیکورٹی منظوری درکار ہو گی۔ یہ اقدام پہلی مرتبہ نافذ کیا گیا ہے۔
البتہ ذرائع نے زور دیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شامیوں کو ہدف بنانا ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامع سیکورٹی جائزے کے ضمن میں ہیں۔
رواں ماہ آٹھ دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت گرنے اور ملک کا انتظام مسلح اپوزیشن گروپوں کے ہاتھ میں آنے کے بعد قاہرہ نے شام میں استحکام کی حمایت سے متعلق اپنے موقف پر زور دیا ہے۔ اس نے ریاست کے اداروں کی سپورٹ، شام کی خود مختاری اور اس کی سرزمین کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت باور کرائی ہے۔

یاد رہے کہ 2011 میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد سے تقریبا 15 لاکھ شامی مصر میں مقیم ہیں۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں