باخبر ذرائع کے حوالے سے جمعرات کے روز معلوم ہوا ہے کہ مصالحت کار اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے چوبیس گھنٹے اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مصالحت کار چند حل طلب نکات میں موجود خلا کو کم کرنے میں کامیاب رہے، لیکن کچھ اختلافات باقی ہیں۔
کارروائی کا حق
خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ذرائع نے وضاحت کی کہ اسرائیل اور حماس نے قیدیوں کے تبادلے کی تعداد اور زمرہ جات پر تبادلہ خیال کیا، لیکن یہ معاملہ حل نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس ایک مرحلے پر مشتمل معاہدہ چاہتی ہے جبکہ اسرائیل تین مراحل پر مُصِرہے۔ انہوں نے کہا کہ تل ابیب غزہ سے کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف کارروائی کے حق پر قائم ہے۔
پہلے سے زیادہ قریب
گذشتہ پیر کو اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ حکومت حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کی تعداد پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔