غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بقیہ خلا پُر کیے جا رہے ہیں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

باخبر ذرائع کے حوالے سے جمعرات کے روز معلوم ہوا ہے کہ مصالحت کار اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے چوبیس گھنٹے اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مصالحت کار چند حل طلب نکات میں موجود خلا کو کم کرنے میں کامیاب رہے، لیکن کچھ اختلافات باقی ہیں۔

کارروائی کا حق

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ذرائع نے وضاحت کی کہ اسرائیل اور حماس نے قیدیوں کے تبادلے کی تعداد اور زمرہ جات پر تبادلہ خیال کیا، لیکن یہ معاملہ حل نہیں ہوا۔

مشاهد تظهرالدمار في منطقة #بيت_لاهيا شمال القطاع #غزة #العربية
مشاهد تظهرالدمار في منطقة #بيت_لاهيا شمال القطاع #غزة #العربية

انہوں نے مزید کہا کہ حماس ایک مرحلے پر مشتمل معاہدہ چاہتی ہے جبکہ اسرائیل تین مراحل پر مُصِرہے۔ انہوں نے کہا کہ تل ابیب غزہ سے کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف کارروائی کے حق پر قائم ہے۔

پہلے سے زیادہ قریب

گذشتہ پیر کو اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ حکومت حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

مشاهد من غزة - الغارات الإسرائيلية حوّلت أجزاء من بيت لاهيا بشمال قطاع غزة إلى أنقاض - د ب أ
مشاهد من غزة - الغارات الإسرائيلية حوّلت أجزاء من بيت لاهيا بشمال قطاع غزة إلى أنقاض - د ب أ

حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کی تعداد پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں