شام پر حکمرانی کے 54 برسوں کے دوران میں الاسد خاندان نے ریاست کے ہر شعبے میں بد عنوانی کا فساد مچا دیا۔ بشار حکومت کے سقوط کے بعد "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی ٹیم نے شام کا دورہ کیا۔ اس دوران میں کسی ایک سیکٹر کا جائزہ نہیں لیا گیا بلکہ یہ پورا دورہ ہی کہانیوں سے بھرپور ہے۔
شام میں دیگر تمام اداروں کی طرح ہوابازی کا شعبہ بھی کسی بہتر حالت میں نہیں رہا۔ شام کی قومی فضائی کمپنی سیریئن ایئر (Syrian Air) کے ڈائریکٹر انجیئنر عبیدہ جبرائیل نے اس حوالے سے روداد بتائی۔ عبیدہ کو بشار حکومت نے ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے عبیدہ نے بتایا کہ بشار حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ "ایلوما" نامی ایک غیر معروف کمپنی سے معاہدہ طے کیا جائے تا کہ شام کے ایک ایک اہم ترین ادارے کو چلایا جا سکے، ایسا ادارہ جس کی عمر فرانسیسیوں سے خود مختاری کی عمر کے برابر ہے۔ عبیدہ کے مطابق انھوں نے تمام شرائط کو زیر بحث لائے بغیر معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس معاہدے کے ذریعے پبلک سیکٹر میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری رکھنے والی "سیریئن ایئر" کو پابند بنایا جا رہا تھا کہ وہ ایک غیر معروف کمپنی میں خصوصی سرمایہ کاری کرے۔ انجینئر عبیدہ کے انکار پر وزیر ٹرانسپورٹ نے انھیں بتایا کہ یہ غیر معروف کمپنی شامی "صدر بشار الاسد کی ملکیت ہے لہذا آپ پر عمل درآمد لازم ہے"۔
کئی بار انکار کے بعد آخر کار عبیدہ کی برطرفی کا فیصلہ آ گیا۔ ان کی جگہ کسی اور کو ڈائریکٹر جنرل بنا دیا گیا جس نے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
انجینئر عبیدہ کے مطابق بشار الاسد کے قریبی حلقوں نے گذشتہ موسم گرما میں لبنان جنگ کا فائدہ اٹھایا اور اسے بہانا بنا کر "سیریئن ایئر" کی کئی پروازیں منسوخ کر دیں۔ اس کا مقصد نئی کمپنی کے ساتھ معاہدے کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔ اسی طرح رواں سال اگست میں "سیریئن ایئر" نے کئی پروازیں بالخصوص متحدہ عرب امارات جانے والی پروازوں کو منسوخ کر دیا۔
اس اقدام کے کئی جواز پیش کیے گئے تاہم مقامی ویب سائٹوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ ہلچل جان بوجھ کر مچائی گئی اور پروازوں کی منسوخی دانستہ طور پر کی گئی۔
ذرائع کے مطابق دانستہ گڑبڑ پیدا کرنے کا مقصد نجی کمپنی "ایلوما" کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ فعال بنانا تھا۔
اس موقع پر کئی مسافروں نے اپنی پروازوں کی بلا جواز تاخیر جو کہ تین ماہ کی مدت تک پہنچ گئی تھی، اس کے حوالے سے شکایات پیش کیں۔ مسافروں نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ پروازوں کی عدم تاخیر یا عدم منسوخی کی خاطر بھاری رقوم ادا کی گئیں۔
یاد رہے کہ شام کی قومی فضائی کمپنی Syrian Air کا قیام 1946 میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت کمپنی نے اپنا کام دو طیاروں کے ساتھ شروع کیا اور حلب، دیر الزور اور القامشلی کے لیے پروازوں کا آغاز کیا۔ بعد ازاں کمپنی نے 1950 کی دہائی میں اپنا دائرہ کار وسیع کیا اور بیت المقدس، بغداد، بیروت اور قاہرہ کے لیے پروازیں شروع کیں۔
-
شام اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے درمیان یو این امن مشن میں توسیع
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کے روز شام اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی ...
مشرق وسطی -
ہم شام پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے کی کوشش نہیں کر رہے: مصر میں ترک سفیر کی گفتگو
مصر میں ترکیہ کے سفیر صالح متلو سین نے زور دے کر کہا کہ شام کے واقعات ان کے ملک کو ...
مشرق وسطی -
مزید گواہیاں: بشار حکومت نے کیسے شامیوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے ہلاک کیا
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامیوں کے ذہن میں ان تمام سانحات کی یاد تازہ ...
مشرق وسطی