غزہ میں اسرائیلی فوج نے ٹی وی چینل ' القدس ٹوڈے ' کی گاڑی پر بمباری کر کے پانچ میڈیا کارکنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ٹی وی چینل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ بمباری جمعرات کی صبح کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے ٹی وی کی براہ راست نشریات میں مدد دینے والی اس بڑی گاڑی کو ہدف بنا کر بمباری کی۔ میڈیا ہاؤس کی یہ گاڑی نصیرات کے پناہ گزین کیمپ میں ایک جگہ پارک کی گئی تھی تاکہ نشریات ممکن ہو سکیں کہ اسرائیلی فوج نے بمباری شروع کردی۔
' القدس ٹوڈے ' نے اس بمباری میں جاں بحق ہونے والے اپنے کارکنوں کی شناخت بتاتے ہوئے کہا ہے ان میں فیصل ابو القمسان، ایمن الجادی، ابراہیم الشیخ خلیل، فادی حسونا اور محمد الادا شامل تھے۔
غزہ کے شہری دفاع سے متعلق کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہم ایک جگہ سے آگ کے شعلوں کو دیکھ کر اس طرف گئے تو دیکھا کہ اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا تھا اور گاڑی میں موجود پانچوں میڈیا کارکن ہلاک کر دیے تھے۔ ان پانچوں میڈیا کارکنوں کا تعلق ' القدس ٹوڈے ' سے تھا۔ غزہ کی وزارت صحت اور طبی عملے کے کارکنوں نے بھی اس واوقعے کی تصدیق کی ہے۔
ٹی وی چینل کے بیان میں اسرائیلی بمباری سے بیک وقت پانچ میڈیا کارکنوں کو ہلاک کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے ان کارکنوں کو ان کی ڈیوٹی کے دوران قتل کیا گیا ہے۔ تام ہمارا ادارہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔
واضح رہے پچھلے ہفتے تک کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر سے اب تک 190 میڈیا کارکنوں کو قتل اور 400 کو زخمی کیا تھا۔ اب اس میں پانچ میڈیا ورکرز کا خون مزید شامل ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے میڈیا کی اس گاڑی کو نشانہ بنایا ہے کہ یہ فلسطینی گروپ سے منسلک تھی۔ بمباری سے پہلے شہریوں کو ہلاکت سے بچانے کے لیے تمام تدبیر کرنے کا بھی اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی جنگی جہاز سے ایک میزائل فائر کر کے میڈیا ورکرز اور ان کی نشریاتی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 45500 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔