یمن اور حوثی

اسرائیل نے حوثیوں کا ایک اور میزائل حملہ ناکام بنا دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیل نے آج ہفتے کو علی الصبح حوثیوں کی جانب سے داغا جانے والا ایک میزائل فضا میں روک دیا۔ اس سے قبل اسرائیلی طیاروں نے یمن میں صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت کئی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یمن کی جانب سے بھیجے جانے والے میزائل کو اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر وسطی اسرائیل میں خطرے کے سائرن معمول کے مطابق بجائے گئے۔

اس سے چند گھنٹے قبل یمنی دار الحکومت صںعاء کو نئی بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔

یمن پر جمعرات کے روز اسرائیلی حملوں میں 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں چار افراد صنعاء کے ہوائی اڈے پر مارے گئے۔

جمعے کو حوثی ملیشیا نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیل بالخصوص تل ابیب میں بن گوریون ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون طیاروں سے حملہ کیا۔ اس کے علاوہ وسطی اسرائیل میں ایک "اہم ہدف" اور بحیرہ عرب میں ایک جہاز کو بھی ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

سات اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد حوثیوں نے یمنی ساحلوں کے مقابل بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ان جہازوں کے بارے میں حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اسرائیل سے وابستہ تھے یا پھر اسرائیل جا رہے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستے نہر سوئز تک جہاز رانی کی سرگرمیوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی۔ یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بنیادی راہ داری ہے۔

حوثیوں کے حملوں کو روکنے کی کوشش میں امریکی اور برطانوی افواج رواں سال جنوری سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہیں تاہم حوثی ملیشیا کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اسرائیل اکثر یہ اعلان کرتا ہے کہ یمن کی جانب سے آنے والے راکٹوں یا میزائلوں کو اس کی فضاؤں میں پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ تاہم 21 دسمبر کو حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے ایک میزائل کے نتیجے میں اسرائیل میں 16 افراد زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل جولائی میں حوثیوں کے ڈرون حملے میں تل ابیب میں ایک اسرائیلی مارا گیا۔

اسرائیل کی جانب سے صنعاء کے ہوائی اڈے کو پہنچائے جانے والے نقصان کے باوجود حوثیوں کی حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ یحیی السیانی نے جمعے کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10 بجے پروازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہونے کا اعلان کیا۔ السیانی کے مطابق ہوائی اڈے پر کنٹرول ٹاور اور روانگی کے ہال کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جب کہ ہوائی اڈے پر نیوی گیشن سسٹم پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس دوران میں مسافروں کو ہنگامی طور پر جہازوں سے اتارا گیا۔

السیانی نے مزید بتایا کہ حملے میں ہوائی اڈے پر 4 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔

بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس جارحیت کی مذمت کی۔ انھوں نے بتایا کہ نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر بم باری سے یمن میں انسانی کارروائیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے جب کہ ملک کی 80% آبادی اس امداد پر انحصار کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل اقوام متحدہ کے ملازمین کی رہائی کی کوشش اور انسانی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ان دنوں یمن میں تھے۔ یہ ملازمین کئی ماہ سے حوثی ملیشیا کی حراست میں ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ بحفاظت اردن پہنچ گئے۔

حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے میں ایک اسکول کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد اسرائیل نے پہلی مرتبہ صنعاء میں اہداف پر حملے کیے۔ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا کے مطابق ان حمولں میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حوثی ملیشیا نشانہ بنائے گئے ٹھکانوں کو "خطے میں ایرانی اسلحہ اسمگل کرنے اور سینئر ایرانی عہدے داران کے داخلے" کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اسرائیل اور حوثیوں کے بیچ جارحیت میں اضافے سے قبل تل ابیب نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں حماس اور حزب اللہ تنظیموں پر کاری ضربیں لگائیں۔ اس دوران میں تنظیموں کے اہم رہنماؤں کو ہلاک کر دیا گیا اور ان کی عسکری تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔

یمن میں 2014 سے تنازع جاری ہے جب حوثی ملیشیا نے صنعاء سمیت ملک کے شمالی حصے میں وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس مسلح تنازع اور جنگ نے ملک کو ایک بد ترین انسانی بحران میں غرق کر دیا۔

البتہ اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کے واسطے سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد لڑائی میں بڑی حد تک کمی آ گئی۔ اس جنگ بندی میں دو مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔ رواں سال اکتوبر میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد ابھی تک نسبتا صورت حال پر سکون ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں