لبنان میں یوسف قرضاوی کے بیٹے کی گرفتاری، الاخوان نے ترکیہ سے مدد مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

الاخوان المسلمون کے مرحوم مبلغ یوسف قرضاوی کے بیٹے عبدالرحمن قرضاوی کو کئی دنوں سے لبنان میں نظربند رکھا گیا ہے۔ اب اس حوالے سے الاخوان کے رہنماؤں نے نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ مصری الاخوان کے رہنما محمد الصغیر جو ترکیہ فرار ہو گئے تھے، نے ’’ ایکس‘‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ قاہرہ کی طرف سے سرکاری حوالگی کی درخواست تک عبدالرحمن قرضاوی سے براہ راست پوچھ گچھ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیسیشن جج نے یوسف قرضانوی کے بیٹے عبدالرحمن قرضاوی کے بارے میں ابتدائی تحقیقات کرنے کے لیے فائل کو مرکزی تفتیشی محکمے کو بھیج دیا۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ تفتیش دو سمتوں میں ہوئی ہے۔ پہلی سمت 2017 میں مصر میں ان کے خلاف غلط ڈیٹا شائع کرنے کے الزام میں غیر حاضری میں جاری ہونے والے فیصلے کے تناظر میں تھی۔ تفتیش کا دوسرا رخ شام کی اموی مسجد سے شائع ہونے والی جارحانہ ویڈیو کے بعد انہیں گرفتار کرنے کی اماراتی درخواست سے متعلق تھا۔ اس درخواست میں کہا گیا کہ ان سے پوچھ گچھ میں 3 گھنٹے لگے۔

الصغیر نے مزید کہا کہ عبدالرحمن قرضاوی کا وکیل کیسیشن پبلک پراسیکیوٹر سے کہے گا کہ وہ اسے رہائشی اجازت نامہ کے ساتھ رہا کرے اور قانونی طریقہ کار مکمل ہونے تک اسے لبنان میں چھوڑ دے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ترکیہ کے سفارت خانے کے ایک نمائندے نے عبدالرحمن قرضاوی سے اس لیے ملاقات کی ہے کیونکہ وہ ایک ترک شہری ہے۔ ترک نمائندے نے لبنانی حکام سے عبدالرحمن قرضاوی کو ترکیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

الاخوان کے رہنما نے وضاحت کی کہ الاخوان ان کی رہائی کے لیے لبنانی پراسیکیوٹر کو پیش کرنے کے لیے ایک قانونی میمورنڈم تیار کرے گا۔ اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تیاری بھی کی جارہی ہے تاکہ ان تمام قانونی خلاف ورزیوں کو ظاہر کیا جا سکے جن کا گرفتاری سے لے کر اب تک القرضاوی نے سامنا کیا ہے۔

ترک حکام سے مدد کی اپیل

اسی تناظر میں ذرائع نے ’’ العربیہ‘‘ کو انکشاف کیا ہے کہ گروپ نے ترک حکام سے مداخلت کرنے اور القرضاوی کے بیٹے کو مصر یا متحدہ عرب امارات کے حوالے کرنے سے روکنے کے لیے مدد مانگی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ گروپ کو القرضاوی کے بیٹے اور اس کے کاموں کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں لیکن الاخوان اسے نہیں چھوڑے گا کیونکہ اول تو وہ "عظیم مبلغ" کا بیٹا ہے اور دوم اس لیے بھی کہ اس طرح کے معاملے کی تکرار کو روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق القرضاوی کے بیٹے کے کیس میں مصر سے موصول ہونے والی فائل کے ساتھ ساتھ ان کیسز کے تمام کاغذات بھی حاصل ہونے میں کافی وقت لگے گا جن میں وہ عدالتی احکامات کے ذریعے ملزم اور مجرم قرار پائے ہیں۔

واضح رہے عبدالرحمن القرضاوی گزشتہ ہفتے دمشق گئے تھے جہاں انہوں نے شامی انقلاب کی خوشی میں شرکت کی اور شامی عوام کو مبارکباد دی تھی۔

انہوں نے وہاں سے ایک ویڈیو نشر کی جس میں انہوں نے مصر اور کئی خلیجی ممالک کی توہین کی تھی۔ ان کی اس ویڈیو پر شدید غم و غصہ سامنے آیا تھا۔ بہت سے کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کی گرفتاری اور ٹرائل کا مطالبہ کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں