وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو اسرائیلی مذاکرات کاروں کو یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طے کرنے کے لیے دوحہ میں مذاکرات جاری رکھنے کا اختیار دے دیا۔ قبل ازیں اسرائیل اور حماس حال ہی میں معاہدے میں تاخیر کے لیے ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔
قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں حالیہ ہفتوں میں دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے ہیں جس سے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی دوبارہ امید پیدا ہو گئی۔ تاہم گذشتہ ماہ کے آخر میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر رکاوٹیں پیدا کرنے کے الزامات کے باعث معاہدہ دوبارہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔
جمعرات کو نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے موساد (جاسوسی ایجنسی)، اسرائیلی دفاعی افواج اور آئی ایس اے (اندرونی سلامتی ایجنسی) کے پیشہ ورانہ وفد کو دوحہ میں مذاکرات جاری رکھنے کا اختیار دے دیا۔
دسمبر میں حماس نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات "سنجیدہ انداز میں" جاری تھے لیکن اسرائیلی مذاکرات کاروں نے "نئی شرائط" پیش کر دیں جس کی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوئی۔
اسرائیل نے فوری طور پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی راہ میں "نئی رکاوٹیں" حماس نے پیدا کیں۔
بالواسطہ مذاکرات کے متعدد ادوار میں ایک معاہدہ طے کرنے کی کوششیں اہم رکاوٹوں کے باعث بار بار ناکام رہی ہیں۔
اسرائیل میں نیتن یاہو کے ناقدین بشمول غزہ میں قید درجنوں یرغمالیوں میں سے بعض کے رشتہ داروں نے ان پر معاہدے میں تاخیر کرنے کا الزام لگایا ہے۔
تقریباً 15 ماہ کی جنگ کے دوران صرف ایک مرتبہ نومبر 2023 میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔
ایک ہفتے کے تؤقف میں اسرائیل کے زیرِ حراست 240 فلسطینیوں کے بدلے 80 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ 25 دیگر اسیران بھی رہا کیے گئے جن میں زیادہ تر تھائی فارم ورکرز تھے۔
گذشتہ جنگ بندی کے بعد سے مذاکرات میں ایک اہم متنازعہ نکتہ دیرپا جنگ بندی کی راہ میں حائل رہا ہے۔
ایک اور حل طلب مسئلہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد کی حکمرانی کا ہے جو منقسم فلسطینی قیادت سمیت اسرائیل کے لیے انتہائی متنازعہ ہے۔
اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ وہ 2007 سے غزہ پر حکمرانی کرنے والی حماس کو دوبارہ کبھی بھی فلسطینی علاقے کا انتظام چلانے کی اجازت نہیں دے گا۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ غزہ سے فوج کے مکمل انخلاء پر راضی نہیں ہیں۔