شام:عام شہری نئی انتظامیہ کی نگرانی میں رضا کارانہ خدمات انجام دینے لگے
دمشق، حلب اور حمص میں محلوں کی حفاظت کے لیے مقامی مسلح کمیٹیاں سرگرم
روزانہ شام دس بجے ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ شہری لباس میں رضاکار دمشق کے محلوں میں تعینات ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نئے حکام بشار الاسد کی معزولی کے بعد خود کو منظم کررہے ہیں۔
مدحت پاشا مارکیٹ اور پرانے دمشق میں شرقی گیٹ کے ساتھ رضاکاروں کو نئے حکام کے تعاون سے دکانوں اور ریستورانوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔حکام نے انہیں انفرادی ہتھیار فراہم کیے ہیں۔
ٹیکسٹائل کے تاجر فادی رسلان تنگ گلیوں میں اپنے ایک دوست کے ساتھ گھوم رہے تھے۔ انہوں نے گھروں چوری کی متعدد وارداتوں کی ریکارڈنگ کی اور ریکارڈنگ کو بعد میں متعلقہ حکام کے حوالے کردیا گیا۔
کالی جیکٹ پہنے فادی کا کہنا ہےکہ "شام کو اس وقت ہماری ضرورت ہے ہمیں ساتھ کھڑا ہونا چاہیے"۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں خواتین اور بوڑھے موجود ہیں۔ ان رضاکارانہ اقدامات کے ذریعے ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔
آٹھ دسمبر کی صبح سویرے شام کے مختلف حصوں میں ھیۃ تحریر الشام کی سربراہی میں مسلح دھڑوں کی طرف سے شروع کیے گئے اچانک حملے کے دباؤ میں بشارالاسد فرار ہو گئے۔ سابق حکومت کے سینکڑوں اہلکار ٹریفک پولیس اور ریسکیو پولیس اپنی کاریں اور موٹر سائیکلیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
گھنٹوں تک ملک کسی بھی حفاظتی رکاوٹ یا چوکی سے خالی رہا، جس کی وجہ سے بہت سے علاقے افراتفری کا شکار ہوئے، چوری کی وارداتیں ہوئیں۔
اس صورت حال میں دمشق میں بہت سے لوگوں کو ارسلان کی طرح اپنی حفاظت کے لیے اپنے محلوں میں بے ساختہ رضا کارانہ خدمات انجام دینے پر مجبور کیا۔
تربیتی کورس اور ہتھیار
ابتدائی دنوں کے برعکس ان تحفظاتی کمیٹیوں کا کام آج زیادہ منظم ہو گیا ہے۔ ہری نئے حکام کے ساتھ مل کرکام کرتے ہیں۔ جن کے پاس آبادی سے مسلح رضاکار ہوتے ہیں انہیں تیز رفتار تربیتی کورسز کرائے جاتے ہیں تاکہ ان کے کام کو منظم کیا جا سکے۔
نئے پولیس افسر بریگیڈیئر جنرل احمد لطوف کہتے ہیں کہ "مقامی تحفظ کی کمیٹیاں رہائشی محلوں میں رات کی گشت کرنے کے مقصد سے بنائی گئی تھیں تاکہ جرائم کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔ اس کا مقصد اس وقت موجود پولیس اہلکاروں کی تعداد میں موجود خلا کو پُر نہیں کرنا ہے‘‘۔
لطوف بتاتے ہیں کہ "فی الحال (پولیس اہلکاروں) کی تعداد کافی نہیں ہے لیکن ہم ابھی بھی تعداد بڑھانے کے لیے کورسز کرا رہے ہیں۔ ضروری تعداد مہیا کرنے تک اپنا کام جاری رکھیں گے۔
الشغورمحلے میں حسام یحییٰ شروع سے ہی تحفظ کمیٹیوں میں شامل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم اپنے محلوں، دکانوں اور سرکاری املاک کی حفاظت کے لیے رضاکارانہ طور پراور بغیر کسی معاوضے کے نکلے تھے۔
لیکن اب "ھیۃ تحریر الشام نے ہمیں انفرادی ہتھیار اور کارڈ تقسیم کیے جو ہماری شناخت ظاہرکرتے ہیں۔ میں لازمی سروس کے دنوں سے ہتھیاروں کا استعمال جانتا ہوں"۔
گارڈ شفٹ شام دس بجے شروع ہوتی ہے اور صبح چھ بجے تک جاری رہتی ہے۔
رضاکار کاروں اور راہگیروں کی تلاشی لیتے ہیں۔ سابق سکیورٹی فورسز کی رکاوٹوں پر کھڑے ہوتے ہیں، جنہیں اب نئے تین ستاروں والے پرچم سے پینٹ کیا گیا ہے۔
دوسرے بڑے شہروں جیسے کہ حلب اور حمص کے رہائشیوں نے بھی اپنے علاقوں میں اسی طرح کی مقامی کمیٹیوں کا اہتمام کیا ہے۔
دمشق کے دیہی علاقوں میں ٹیلیگرام کے پلیٹ فارم پر سرکاری گورنری کے صفحے نے دیہات کے دیگر رہائشیوں کے علاوہ "ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں اور پبلک سکیورٹی کے ساتھ ہم آہنگی میں" اپنے شہر کی حفاظت میں "رضاکارانہ طور پر" حصہ لینے والے نوجوانوں کی تصاویر شائع کیں۔
سکیورٹی چیلنجز
مقامی نائٹ پروٹیکشن کمیٹیوں کے علاوہ شام کی عبوری حکومت سے وابستہ پولیس افسران کی ایک محدود تعداد بھی دمشق کےاہم مقامات پر تعینات ہے۔ اس کے علاوہ ھیۃ تحریر الشام کے گڑھ ادلب (شمال مغرب) سے آنے والے ٹریفک پولیس افسران بھی ان کی مدد کررہے ہیں۔
ھیۃ تحریر الشام نے کچھ سرکاری ہیڈکوارٹرز اور سرکاری عمارتوں جیسے صدارتی محل، سرکاری ہیڈکوارٹر کی عمارتوں اور پولیس ہیڈ کوارٹر پر گارڈز تعینات کیے۔
وزارت داخلہ نے پولیس کالج میں شمولیت اختیار کرکے پولیس رینک میں بھرتی کے دروازے کھول دیئے۔
پولیس فورس کی تعمیر نو کے علاوہ نئے حکام کو بڑے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف شہروں میں حفاظتی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں سے سب سے اہم حمص میں کی گئی کارروائی تھی جس میں اسد کی ملیشیا کی باقیات کو نشانہ بنایا گیا۔