ایران نے ایک بار پھر 8 دسمبر 2024 کو اپنے حلیف بشار الاسد کی حکومت کے سقوط پر تبصرہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق "شامی فوج کو درپیش ضرب فوجی نوعیت سے پہلے ذرائع ابلاغی اور نفسیاتی نوعیت کی تھی۔
آج منگل کے روز پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی پانچویں برسی کے موقع پر عراقچی کا کہنا تھا کہ "شامی فوج لڑنے سے پہلے ہی شکست سے دوچار ہو گئی، یہ چیز خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتی ہے"۔
ایرانی وزیر خارجہ نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں ایسی حکومت کی تشکیل پر زور دیا تھا جس میں تمام شامی فریق شامل ہوں۔
انھوں امن و استحکام برقرار کے علاوہ وحدت اراضی اور شامی خود مختاری کی اہمیت کو باور کرایا اور تقسیم کو مسترد کر دیا۔ عراقچی نے کہا کہ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کے دوران میں دمشق اور تہران کے بیچ زبانی کشیدگی سامنے آئی۔ بالخصوص ایرانی ذمے داران جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سر فہرست ہیں، ان کے اس خیال کے اظہار کے بعد کہ شام میں "مزاحمت" ایک بار پھر نظر آئے گی۔
دمشق حکومت نے اسے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت اور فتنہ بھڑکانے کی کوشش قرار دیا۔
معلوم رہے کہ دمشق میں نئی سیاسی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع نے 29 دسمبر کو العربیہ نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "نیا شام علاقائی یا مغربی ممالک کے ساتھ کسی کشیدگی کے لیے کوشاں نہیں ہے بلکہ وہ سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہاں ہے، ان میں 'زخم کے باوجود' ایران بھی شامل ہے"۔
یاد رہے کہ تہران نے خانہ جنگی کے دوران میں کئی برسوں تک بشار الاسد کو پوری قوت سے سہارا دیا۔ ایران نے اس وقت مسلح شامی افواج کی مدد کے لیے ہزاروں جنگجوؤں کو شام بھیجا جن میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ارکان شامل ہیں۔
تاہم آٹھ دسمبر 2024 کو بشار کی حکومت کے سقوط کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ایران نے ایک بنیادی حلیف اور لبنان میں حزب اللہ کو اسلحہ اسمگل کرنے کی ایک زمینی راہ داری کھو دی۔
سابق صدر کے سقوط سے کچھ پہلے یہ بات واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گئی تھی کہ ایران ... شام میں رکنے کے حوالے سے امید کھو چکا ہے اور اس نے شام سے اپنے جنگجوؤں اور مشیروں کو واپس بلا لیا۔