غزہ جنگ بندی کا معاہدہ ہونا اسرائیل کے لیے تباہی ہوگا : انتہا پسند وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر خزانہ اور حکومتی اتحاد میں شامل ایک یہودی جماعت کے سربراہ بذالیل سموٹریچ نے ایک بار پھر غزہ میں جنگ بندی کی پرزور مخالفت کی ہے۔

انہوں نے اس ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا 'یہ اسرائیل کی شکست کا معاہدہ ہوگا۔'

15 ماہ سے زائد عرصے پر پھیل چکی جنگ کو روکنے اور اسرائیلی قیدیوں کو غزہ سے رہائی دلانے کے لیے قطر و دیگر ثالث ممالک ان دنوں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ 20 جنوری سے پہلے اسرائیلی قیدی حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ اور دیگر مزاحمتی گروپوں کی قید سے نکل کر واپس گھروں کو پہنچ جائیں۔ امریکہ کی اس سلسلے میں کوششیں بھی ان دنوں غیر معمولی ہیں۔

موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن وائٹ ہاؤس سے جانے اور نومنتخب امریکی صدر وائٹ ہاؤس آنے سے پہلے جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر اصرار کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ 20 جنوری سے پہلے اگر حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کیا تو مشرق وسطیٰ میں جہنم کا دروازہ کھول دیں گے۔

تاہم اسرائیلی عوام کی خواہش کے برعکس انتہا پسند حکومتی جماعت کے سربراہ اور وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ جنگ بندی کر کے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے خلاف ہیں۔ وہ ایسی جنگ بندی کو اسرائیل کے لیے تباہی قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے جو جنگ کو روکنے کے حوالے سے ہوگا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ جہنم کے تمام دروازے فلسطینیوں کے علاقوں میں کھول دے۔

واضح رہے انہی جہنم کے دروازوں کے کھولنے کی دھمکی پہلے ڈونلڈ ٹرمپ بھی دے چکے ہیں جو 20 جنوری سے امریکہ کے صدر بننے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں