اسرائیل کا حماس پر معاہدے سے انحراف کا الزام؛ گروپ کے سینئر رہنما کی طرف سے تردید

حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زُہری نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زُہری نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ان اسرائیلی الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک دن قبل اعلان کردہ معاہدے کی شرائط سے انحراف کر رہا ہے۔

ابو زہری نے اے ایف پی کو بتایا، "تحریک کے بارے میں جنگ بندی معاہدے کی شرائط سے انحراف کے بارے میں نیتن یاہو کے دعووں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔"

قبل ازیں جمعرات کو اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کے بعض حصوں سے انکار کا الزام عائد کیا اور کہا تھا کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی تصدیق ہونے تک اسرائیلی کابینہ کا اجلاس نہیں ہو گا۔

نیتن یاہو کے دفتر سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ حماس نے معاہدے کے بعض حصوں سے انکار کیا لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کن حصوں میں مسئلہ تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کابینہ جس نے تاحال معاہدے کی منظوری نہیں دی، "اس وقت تک اجلاس نہیں کرے گی جب تک ثالثین اسرائیل کو مطلع نہ کر دیں کہ حماس نے معاہدے کے تمام عناصر کو قبول کر لیا ہے۔"

اہم ثالث قطر نے بدھ کو کہا کہ 15 ماہ سے زائد کی جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس نے غزہ میں اتوار سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے ہمراہ یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکہ نے بھی اس معاہدے کا اعلان کیا جو بہت حد تک مئی 2024 میں صدر جو بائیڈن کے پیش کردہ معاہدے کی ہی ایک نئی صورت ہے۔

قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آلِ ثانی نے کہا کہ معاہدے کے ابتدائی 42 روزہ مرحلے میں 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں