اسرائیل فائر بندی کا معاہدہ نافذ ہونے سے چند گھنٹے پہلے حاصل موقع کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا اور اس نے تباہ حال غزہ کی پٹی پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
العربیہ نیوز کے نمائندے نے آج ہفتے کے روز بتایا کہ آخری چند گھنٹوں میں پوری غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔
اسی طرح اسرائیلی جنگی کشتیوں نے بھی غزہ شہر کے ساحل اور النصیرات کیمپ کی سمت فائرنگ کی۔
اسرائیلی توپ خانوں نے غزہ شہر کے علاقے الصبرہ میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کو اور شمالی علاقوں کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت حانون، جبالیا کیمپ کے اطراف اور الصفطاوی کے علاقے میں شہریوں کے کئی گھر دھماکے سے اڑا دیے۔
بدھ کی شام اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد سے غزہ کی پٹی پر حملوں کا سلسلہ نہیں تھما ہے۔
فلسطینی شہری دفاع کے ادارے نے اسرائیلی بم باری میں جمعے کی شام تک 100 سے زیادہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
غزہ میں پندرہ ماہ جاری رہنے والی خونریز جنگ میں 46 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔
ان کے علاوہ تقریبا بیس لاکھ فلسطینی بے گھر ہو گئے۔ اس دوران میں اسرائیل کی عائد کردہ پابندیوں کے سبب طبی اور غذائی امداد کی شدید قلت ہو گئی۔
اس کے نتیجے میں انسانی صورت حال ابتر ہو گئی اور بھوک، بیماری اور طبی نگہداشت کی عدم فراہمی پھیل گئی۔
-
یورپی یونین: فوجی مشن غزہ بارڈر پر پھر سے مامور ہونے کو تیار
یورپی یونین جنگ بندی کے بعد یورپی یونین اپنے فوجیوں کو نگرانی مشن کے تحت کی رفح ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی منظوری کے بعد کیا ہوگا؟
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے اور حماس کے ...
مشرق وسطی -
غزہ کے لیے روزانہ 600 ٹرک اور ہسپتال تیار،عالمی ادارہ صحت کا منصوبہ
اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی منظوری کے بعد عالمی ادارہ ...
مشرق وسطی