غزہ کی عارضی حکمرانی کے لیے ٹیکنوکریٹس کمیٹی کی تشکیل کے حامی ہیں : حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی تنظیم حماس نے باور کرایا ہے کہ وہ عارضی طور پر غزہ کی پٹی کے انتظامی امور ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے چلانے کی حمایت کرتی ہے۔

ایران میں تنظیم کے سرکاری ترجمان خالد القدومی نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ حماس غزہ میں ٹیکنوکریٹس کی انتظامی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پر آمادہ ہو چکی ہے جو تعمیر نو، انسانی امداد کی تقسیم اور انتخابات کے اجرا کی ذمے داری سنبھالے۔

القدومی نے زور دیا کہ حماس مشترکہ قومی ویژن کے سلسلے میں تعمیر نو کے خواہاں ہر فریق کے لیے کشادہ موقف رکھتی ہے۔ اس لیے کہ حماس یکجہتی اور فلسطینی شراکت داری پر یقین رکھتی ہے جس کے بغیر فلسطین میں امور کو چلانا ممکن نہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی "ٹاس" کے مطابق القدومی نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی فلسطین اور مغربی کنارے سے علاحدہ صورت میں نہیں رہ سکتی، بالکل اسی طرح جیسے غزہ کی پٹی کے بغیر فلسطین نہیں رہ سکتا۔

اس سے قبل منگل کے روز قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثاني نے امید ظاہر کی تھی کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے ساتھ ہی فلسطینی انتظامیہ غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھال لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کی آبادی نہ کہ کوئی اور ملک یہ فیصلہ کرے گا کہ ان پر کس کی حکومت ہو گی۔

معلوم رہے کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ پٹی میں حماس کے کسی بھی حکومتی کردار کو مسترد کرتا ہے۔ اسی طرح وہ تقریبا اتنی ہی شدت کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کی مخالفت کرتا ہے۔

ادھر فلسطینی اتھارٹی کو جس پر فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی قائم کردہ فتح موومنٹ کا غلبہ ہے، حماس کی جانب سے مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ حماس نے مختصر خانہ جنگی کے بعد 2007 میں فلسطینی اتھارٹی کو غزہ سے نکال دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں