جنین میں اسرائیلی فوجی آپریشن جاری ، ڈرون حملے میں 2 نوجوان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے جنوب میں اسرائیلی فوج کے ڈرون طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی جمعے کی شام قباطیا قصبے میں کی گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو نوجوان ہلاک ہو گئے۔

عینی شاہدین اور فلسطینی سیکورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں گاڑی جل کر مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ مرنے والوں کے نام محمود كميل اور حمود زكارنہ بتائے گئے ہیں۔

اس طرح منگل سے جنین شہر اور اس کے کیمپ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے، زخمیوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ نشانہ بنائی جانے والی گاڑی میں مسلح افراد سوار تھے۔

فوج کا کہنا ہے کہ قباطیا میں اس کی کارروائی جاری رہے گی۔

جنین شہر سے ملحقہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی بلڈوزروں اور کھدائی کرنے والی مشینوں کی طرف سے مکانوں کو گرانے اور سڑکوں کو اکھیڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے ترجمان سمین الخیطان نے اسرائیل کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی اور طاقت کے مہلک استعمال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنین آپریشن نے طاقت کے غیر ضروری اور غیر متناسب استعمال کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ادھر جنین کے نائب گورنر منصور السعدی نے جمعرات کے روز خبردار کیا تھا کہ جنین میں اسرائیلی فوج کی آئندہ کارروائی غزہ کی پٹی کے شمال میں ہونے والی تباہی جیسی ہو سکتی ہے۔

جنین آپریشن کے آغاز سے ہی اس میں فضائی حملے اور اسرائیلی اسپیشل فورسز کی جانب سے خفیہ کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج نے سیکڑوں فلسطینیوں کو جنین کیمپ سے بے گھر ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی جنگ چھڑنے کے ساتھ ہی مشرقی بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا۔

اس کے نتیجے میں فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 875 فلسطینی شہید اور تقریبا 6700 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دوران میں 14300 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں