حماس کی فہرست میں شامل 26 قیدیوں میں سے 18 اب بھی زندہ ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ کی پٹی میں زیر حراست اسرائیلیوں کی تیسری کھیپ کی حوالگی میں التوا کے دوران اسرائیلی حکومت نے ایک نیا انکشاف کیا ہے۔

حکومتی ترجمان ڈیوڈ منسر نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے 33 قیدیوں کی فہرست میں زندہ اور مردہ افراد کے بارے میں کچھ تفصیلات فراہم کی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ "اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں جن یرغمالیوں کو رہا کیا جانا تھا ان میں سے آٹھ کی موت ہو گئی ہے۔ مر جانے والے یرغمالیوں کے لواحقین کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے کے تحت سات یرغمالی رہا ہو چکے ہیں اور 26 کو ابھی رہا ہونا ہے۔ ان 26 میں سے صرف 18 ابھی تک زندہ ہیں۔ تحریک حماس کے ایک سرکاری ترجمان کے مطابق اسی تناظر میں حماس نے کہا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں رہائی پانے والے قیدیوں کے ساتھ آٹھ لاشیں حوالے کرے گی۔

قبل ازیں حماس کے ایک رہنما نے اعلان کیا تھا کہ تحریک نے ثالثوں کو 33 میں سے 25 زندہ قیدیوں کے ناموں کی فہرست سونپ دی ہے۔

حماس کے ساتھ مذاکرات

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کے بعد فلسطینی تحریک تین قیدیوں کو جمعرات کو اور تین دیگر کو اگلے ہفتے کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں جنوبی غزہ کے بے گھر افراد کو شمالی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کے ملک کو حماس سے ایک فہرست موصول ہوئی ہے جس میں تمام زندہ یا مردہ یرغمالیوں کی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے جنہیں پہلے مرحلے کے دوران رہا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد حماس نے تصدیق کی تھی کہ اس نے یہ فہرست مصری اور قطری ثالثوں کو پیش کر دی ہے۔

یاد رہے جنگ بندی معاہدے کے تحت تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا جس میں غزہ سے تقریباً 1900 فلسطینیوں کے بدلے 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں