اسرائیل مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کر رہا ہے َ: فلسطینی اتھارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی اتھارتی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف مسلسل اسرائیلی فوج کی جنگی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر قرار دیا ہے۔ صدارتی دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے اسرائیلی فوج کی ان نسل کشی پر مبنی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکہ مداخلت کرے۔

فلسطینی اتھارٹی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ کے صدر نے محض چند ہفتے قبل مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث یہودی آباد کاروں پر جوبائیڈن دور میں عائد کردہ پابندیوں کو ختم کیا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگی جرائم میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہونے کے باوجود ایک بار پھر امریکی دورے پر ہیں۔ وہ منگل کو ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔

صدارتی دفتر کے ترجمان نبیل ابو روضی نے مغربی کنارے کے علاقے میں اسرائیل کے ایک جامع قسم کی کارروائی شروع کر رکھی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ' یہ جنگی کارروائیاں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔'

ترجمان نے کہا ' ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی طرف سے اس جاری جارحیت کو رکوائے جو ہمارے لوگوں اور زمین کے خلاف اسرائیل کی طرف سے جاری ہے۔ '

خیال رہے اسرائیلی فوج نے 21 جنوری سے مغربی کنارے کے علاقے جنین میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ اسرائیل کی فوج نے اتوار کے روز ان کارروائیوں کے دوران 50 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ دہشت گرد تھے۔

اسرائیل ایک طرف مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کر کے پورے مغربی کنارے کو مستقل طور پر اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے ٹرمپ کی مدد چاہتا ہے۔

دوسری جانب غزہ سے ٹرمپ نے دس لاکھ فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کر دینے کے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دونوں اتحادی منگل کے روز اس معاملے میں اہم فیصلے اور حکمت عملی کے لیے وائٹ ہاؤس میں مل رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں