نئی سعودی تحقیق: بحیرۂ احمر کے مقامات شمسی، ہوا کی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے مثالی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک بڑی سعودی یونیورسٹی نے پیر کو کہا کہ ادارے کے سائنسدانوں نے دو ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جو شمسی اور ہوا کی توانائی کا ذخیرہ کرنے کے لیے مثالی ہوں گے۔

شاہ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطالعے میں کہا گیا ہے کہ دونوں مقامات مملکت کے مغربی ساحل پر بحیرۂ احمر کے برابر میں واقع ہیں۔

تحقیق نے کل دس مقامات کی نشاندہی کی لیکن کئی سائنسی اور اقتصادی عوامل پر غور کرنے کے بعد کہا کہ بحیرۂ احمر کے مقامات سب سے زیادہ قابلِ عمل ہے اور یہ مملکت کی تمام بین الموسمی توانائی ذخیرہ کرنے کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہے۔

سائنسدانوں نے صاف پانی کی موسمی ہائیڈرو سٹوریج کے امکانات اور اس بات پر غور کیا کہ یہ مملکت میں موسمِ گرما کی بجلی اور پانی کی طلب کو پورا کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے ۔

یہ تحقیق "قابلِ تجدید اور پائیدار توانائی کے جائزے" کے اگلے ایڈیشن میں شائع ہو گی۔

تحقیق دان یوشی ہیڈی واڈا نے کہا، "مملکت شمسی اور ہوا کی توانائی کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ ہم اس بات کا تعین کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان دو قابلِ تجدید ذرائع توانائی کو کس طرح تبدیل کریں جس سے مملکت میں پانی کے انتظام کو فائدہ پہنچ سکے۔"

مملکت کاربن کا اخراج کم کرنے اور پائیدار ترقی کے ذرائع کو فروغ دینے کی کوشاں ہے۔ یہ وژن 2030 کے تحت 2030 تک اپنی بجلی کا کم از کم 50 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے اور 2060 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شاہ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اس تحقیق کے اعلان والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے بجلی کی صنعت میں خاطر خواہ تبدیلی کی ضرورت ہو گی۔

قابلِ تجدید توانائی سعودی عرب کے طویل مدتی پائیداری وژن کا حصہ ہے لیکن انتہائی ضرورت کے وقت وسائل کو ذخیرہ کرنا بدستور ایک چیلنج ہے۔

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ "بجلی کا استعمال سردیوں سے لے کر گرمیوں کے مہینوں میں کچھ سالوں میں تقریباً دوگنا ہو گیا ہے جس کے لیے ایسا بنیادی ڈھانچہ بہت زیادہ اہم ہو گیا ہے جو سرد مہینوں میں شمسی اور ہوا کی توانائی کو محفوظ رکھ سکے اور گرم مہینوں میں بجلی پیدا کرنے کے لیے اس توانائی کا استعمال کے۔"

بیٹری سٹوریج کے حل میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، لیکن یہ صرف روزانہ کی بنیاد پر ہی توانائی کو ذخیرہ کرسکتے ہیں۔

"طوعل عرصے تک موسمی پمپ سے چلنے والی ہائیڈرو پاور سٹوریج زیرِ غور ہے۔ یہاں صاف شدہ پانی کو بلند پہاڑوں میں ذخیرہ کیا اور بجلی پیدا کرنے اور پانی کی طلب کے مطابق چھوڑا جا سکتا ہے۔"

لیکن ہر موسمی پمپ سے چلنے والی ہائیڈرو پاور سٹوریج سائٹ پر تقریباً 10 بلین ڈالر اخراجات ہوتے ہیں جس کی بنا پر تعمیر کے لیے موزوں ترین مقامات کی تلاش بہت ضروری ہے۔

سائنسدانوں نے ذخیرہ شدہ پانی کے بخارات، پانی کے نمکیات اور قریب جگہ پر شمسی یا ہوائی توانائی پلانٹس کی تعمیر کے امکانات جیسے عوامل کا مطالعہ کیا گیا۔

جولین ہنٹ نے کہا،

"ان سٹوریج سائٹس میں غیر معمولی ابتدائی سرمایہ کاری ہے، لہذا ان کی قیمت کا اندازہ جتنا ممکن ہو درست طریقے سے لگایا جانا چاہیے۔ ہمارا مطالعہ پانی کے انتظام کو ڈیزائن میں شامل کرتا ہے جس سے اس بات کا زیادہ جامع تخمینہ ملتا ہے کہ بڑے پیمانے پر منصوبے سعودی عرب میں قابلِ تجدید ذرائع کو اپنانے میں کس طرح مدد کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں