غزہ کی پٹی پر قبضے اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ متنازعے بیانات کے بعد دنیا بھر میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی لوگ آج بدھ کے روز ایک بار پھر سامنے آئے اور انہوں نے خطے کے لیے اپنے منصوبے کی وضاحت کی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے لیے منصوبہ!
ایکسیس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےایک قریبی مشیر نے سرخ لکیروں کو حرکت دینے اور انہیں آگے بڑھانے کی بات کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ بڑی اخباری سرخیوں، ماہرین کی باتوں اور اس جیسے لوگوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو ایک پیغام بھیجا، جس میں کہا گیا کہ وہ حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ساتھ ہی وہ بہتر منصوبے بھی پیش کر سکتے ہیں۔
تاہم امریکی مشیر نے تسلیم کیا کہ"غزہ اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ٹرمپ کے وژن میں عمومی طور پر بہت بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انسانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر چونکہ 20 لاکھ فلسطینی ہیں جو اس پٹی کو اپنا واحد گھر سمجھتے ہیں۔ 16 ماہ کی جنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑی تباہی کے باوجود وہ پٹی چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کا اقدام ٹرمپ کا اپنا خیال تھا اور وہ کم از کم دو ماہ سے اس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے یہ منصوبہ اس لیے پیش کیا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ غزہ کے لیے کسی اور کے پاس نئے خیالات نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے کل اردن اور مصر سے دوبارہ غزہ کے رہائشیوں کو پناہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس ساحلی پٹی چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ حماس کی وجہ سے یہ چھیڑی جانے والی جنگ جنگ کے 16 ماہ میں یہ تباہ وبرباد ہوچکی ہے۔ جنگ کے بعد اسرائیلی اس کی دوبارہ تعمیر کر رہا ہے‘۔
اس بار انہوں نے زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کی "مستقل طور پر" آباد کاری کی حمایت کریں گے۔ وہ اپنی تجاویز پر قائم ہیں جنہیں تمام عرب ممالک نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
چونکا دینے والا خیال اور تنقید
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر کے بیانات کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔مصر، ترکیہ، چین، آسٹریلیا، روس، فرانس اور برطانیہ سبھی نے دو ریاستی حل کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ٹرمپ کے خیال کو مسترد کردیا ہے۔
سعودی عرب نے بھی فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر اپنے مضبوط اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کیا ہے۔
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما یائر لپیڈ نے اس تجویز کو "بم" قرار دیا۔
دریں اثنا ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کے نتائج تمام اسرائیلی توقعات سے کہیں زیادہ ہیں‘‘۔
کل منگل کو نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ایک چونکا دینے والا خیال پیش کیا جو خطے میں کئی دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی کی واضح تبدیلی کا اشارہ ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے پر ایک بار پھر زور دیا اور کہا کہ ان کے خیال میں اس سے بہتر اور کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔
ان کے اس متنازعے بیان پر نہ صرف فلسطینیوں بلکہ عرب ممالک اور پوری دنیا کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
-
’پی ایل او‘ اور حماس نے غزہ سے فلسطینی نقل مکانی کا منصوبہ مسترد کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے اور وہاں سے فلسطینیوں ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کے داماد نے عرصہ پہلے غزہ کی آبادی کی جبری ہجرت کا عندیہ دیا تھا
لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ پہلی شخصیت نہیں جس نے "غزہ کی پٹی پر امریکی ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کی طرف سے غزہ میں امریکی فوج اتارنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ساڑھے 15 ماہ کی غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران بمباری ...
مشرق وسطی