غزہ پر طوفان اور ٹرمپ مسلط، رہائشی بھی کبھی اپنی سرزمین نہ چھوڑنے کے لیے پُرعزم
"موسم، ٹرمپ اور نہ ہی اسرائیل ہمیں یہاں سے بے دخل کر سکیں گے"
ٹرمپ کے بعد غزہ میں سیلاب آ گیا۔
جمعرات کے اوائل میں غزہ کی پٹی میں شدید آندھی اور بارش آ گئی۔ موسم سرما کے اس سیلاب میں خیمے بہہ گئے اور گھروں کے گرد لپٹی ہوئی پلاسٹک کی چادریں پھٹ گئیں۔
اس کے باوجود رہائشیوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انکلیو پر قبضہ کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کے منصوبے کے اعلان نے ان کے یہاں رہنے کے عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے۔
جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح میں تباہ حال مکانات اور شکستہ سڑکوں سے گھرے ہوئے اور بارش کے پانی میں کھڑے قاسم ابو حسون نے کہا، "اس المیے کے باوجود، بارش اور انتہائی خراب موسم کے باوجود لوگ بغیر چھت کے رہ رہے ہیں۔"
اس ماہ جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ان کا خاندان یہاں اپنے تباہ شدہ گھر میں واپس آگیا تھا۔ ان کا کبھی بھی کہیں جانے کا ارادہ نہیں ہے۔
انہوں نے رائٹرز کو بتایا، "لوگ اپنے ملک، اپنی سرزمین سے پیوستہ ہیں۔ وہ اپنے ملک کی ریت کے ایک ذرے سے بھی پیوستہ ہیں۔"
جس رات غزہ کے بیشتر باشندوں کو ٹرمپ کے حیران کن اعلان کا علم ہوا، طوفان نے نہ صرف ان کی نیندیں بلکہ پلاسٹک اور کپڑے کی چادروں سے بنے عارضی خیمے بھی اڑا دیئے۔ رہائشیوں نے پلاسٹک کے چھوٹے برتنوں کی مدد سے خیموں میں جمع ہو جانے والا پانی نکالا۔
صبح اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو حکم دیا کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کی "رضاکارانہ روانگی" ممکن بنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے۔
غزہ شہر میں اسرائیل کے ہاتھوں تباہ شدہ گھر کے کھنڈرات میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے والے عبدالغنی نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ موسم بھی ہمارے خلاف ہے لیکن نہ موسم، نہ ٹرمپ اور نہ ہی اسرائیل ہمیں ہماری سرزمین سے بے دخل کر سکیں گے۔"
تند و تیز ہواؤں نے وہ پلاسٹک کی چادروں اڑا دیں جو انہوں نے شکستہ کھڑکیوں اور دیواروں کے سوراخوں کو بند کرنے کے لیے لگائی ہوئی تھیں۔ بارش کا پانی اندر داخل ہو گیا۔ پھر بھی وہ کہیں نہیں جا رہے۔ انہوں نے رائٹرز کو ایک ٹیکسٹ میسج میں بتایا۔
"کیا وہ پاگل ہے؟" انہوں نے ٹرمپ کے بارے میں کہا۔ "ہم آپ کو اپنی زمین فروخت نہیں کریں گے، زمینوں کے ٹھیکیدار۔ ہم بھوکے، بے گھر اور مایوس ضرور ہیں لیکن ہم آپ کا مقصد پورا کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر وہ مدد کرنا چاہتے ہیں تو آئیں اور ہمارے لیے یہاں تعمیرِ نو کریں۔"
اسرائیل میں چینل 12 نے اطلاع دی کہ کاٹز کے منصوبے میں زمینی گذرگاہوں کے ذریعے باہر نکلنے کے ساتھ ساتھ بحری اور ہوائی راستے سے روانگی کے خصوصی انتظامات شامل ہوں گے۔
فلسطینیوں کی نقلِ مکانی شرقِ اوسط کے حساس ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ فوجی قبضے کے تحت آبادی کا جبری انخلاء ایک جنگی جرم ہے جس پر 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تحت پابندی عائد ہے۔
حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے رائٹرز کو بتایا کہ کاٹز کا بیان حیران کن نہیں تھا اور اس کا مقصد غزہ جنگ میں اسرائیل کی کسی بھی مقصد کے حصول میں ناکامی کی پردہ ہوشی کرنا تھا۔
دریں اثناء غزہ کے اندر بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں کو اور خاص طور پر علاقے کے شمالی حصے میں لوٹ آئے ہیں جو تقریباً مکمل طور پر کھنڈرات میں بدل چکا ہے۔ نعیم نے کہا کہ تباہی کے باوجود گھروں کو واپسی فلسطینیوں کی زمین سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔
نعیم نے کہا، "اگر وہ اپنے دعووں میں مخلص ہیں تو انہیں غزہ پر سے حبس زدہ ناکہ بندی ختم کرنی اور راہداری کو کھولنا چاہیے اور وہ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ غزہ واپس آنے والوں کی تعداد یہاں سے جانے والوں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے گی حالانکہ یہاں زبردست تباہی ہوئی ہے۔"
غزہ جنگ میں اسرائیلی بربریت میں وہاں کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 16 مہینوں میں 47,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس کے باعث اسرائیل کو نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے جن سے اسرائیل انکار کرتا ہے۔
مصری اور قطری ثالثین کے اتفاقِ رائے اور امریکہ کی حمایت سے ہونے والی چھے ہفتے کی ابتدائی جنگ بندی بہت حد تک برقرار ہے لیکن اس سے آگے کسی پائیدار تصفیے کے امکانات بدستور غیر واضح ہیں۔
-
غزہ میں 10 ہزار سے زیادہ امدادی ٹرک داخل ہو چکے ہیں : اقوام متحدہ
اقوام متحدہ میں انسانی امور کے رابطہ کار نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ 19 جنوری کو ...
مشرق وسطی -
اسرائیل جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کو امریکا کے حوالے کر دے گا: ٹرمپ
غزہ کو تحویل میں لینے کی تجویز پر عالمی سطح پر شدید تنقید جاری ہے
بين الاقوامى -
غزہ فلسطینیوں کا ہے، یہ جنگل کے قانون کا نشانہ نہیں بنے گا : چین
چین کی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی کی آبادی کی جبری ہجرت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ...
بين الاقوامى