قومی مفاہمت کی حکومت ٹرمپ کے منصوبوں کا مقابلہ کرے : حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی تنظیم حماس نے قومی مفاہمت کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبوں کا مقابلہ کرے۔

امریکی صدر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کی بے دخلی کے بعد غزہ کی پٹی کا کنٹرول لے کر اسے ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

حماس کے ترجمان محمود المرداوی کا کہنا ہے کہ قومی مفاہمت کی تشکیل تک جلد پہنچنا چاہیے تا کہ ٹرمپ کے منصوبوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ حماس تنظیم کے بغیر غزہ کی کوئی انتظامیہ نہیں ہو گی۔ المرداوی نے کہا کہ "کوئی یہ قبول نہیں کرے گا کہ فلسطینی اتھارٹی حماس کے بغیر غزہ کا کنٹرول سنبھال لے"۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "ہم غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کمیٹی کے حوالے سے مصر کی تجاویز کو قبول کرتے ہیں، ہم نے کسی شق پر اعتراض نہیں کیا"۔

ادھر فتح موومنٹ نے اپنے ترجمان ایاد ابو زنیط کی زبانی رد عمل میں کہا ہے کہ قومی حکومت کے حوالے سے حماس تنظیم کی دعوت تاخیر سے آئی ہے۔ العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ابو زنیط کا مزید کہنا تھا کہ "اعلی ترین مفاد اس بات کا متقاضی ہے کہ حماس سبک دوش ہو جائے تا کہ ہم عالمی برادری کے ساتھ معاملات دیکھ سکیں"۔

فلسطینی کیمپ میں یہ تقسیم ایسے وقت میں جاری ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے غزہ کی پٹی پر امریکی کنٹرول کا خیال پیش کیا ہے۔ کنٹرول کا مقصد غزہ کی پٹی کو فلسطینی آبادی سے خالی کر کے اسے "مشرق وسطیٰ کا ریویرا" میں تبدیل کرنا ہے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا ہے کہ 15 ماہ کی جنگ کے بعد تباہ حال غزہ کی پٹی کی آبادی رہنے کے لیے اردن اور مصر منتقل ہو سکتی ہے جب کہ ان دونوں ممالک نے اس طرح کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔

بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس منصوبے کو "خوف ناک" اور "غیر قانونی" قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے اس کی مذمت کی ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں