پہلی سعودی ریاست میں یہ چیز مہمان کے لیے گرم جوشی کی علامت تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پہلی سعودی ریاست میں مبخرہ (عود دان / دھونی دان) نے زینت، گرم جوشی اور اعزاز کی حیثیت اختیار کر لی۔ اسے "خوشبو کی انگیٹھی" کا نام دیا گیا تھا۔ بعض لوگ اسے بخور (دُھونی) کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ بات سعودی یومِ تاسیس کی سرکاری ویب سائٹ پر بتائی گئی ہے۔

قومی ورثے میں دل چسپی رکھنے والے محقق ولید العبیدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "لوبان کی دُھونی یا عود کی خوشبو سعودی تاریخ اور ورثے میں معنوی علامت ہے۔ یہ اپنی پیاری اور نفیس خوشبو کے علاوہ جود و کرم اور مہمان کے احترام اور عزت افزائی کی نشانی سمجھتی جاتی ہے"۔

العبیدی کے مطابق گرم جوشی اور فیاضی کا پیمانہ مہمان کے لیے پیش کی جانے والی دھونی کا معیار ہوتا تھا۔ خوشبو اور معیار کی بنیاد پر دُھونیوں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ان میں نمایاں ترین "عودِ هندی" اور "کمبوڈیا کا عود" ہے۔

العبیدی نے مزید بتایا کہ عود دانوں اور دُھونی دانوں نے کا سعودی ورثے سے گہرا تعلق ہے۔ بالخصوص خوشی کے مواقع ، تہواروں اور سرکاری تقریبات میں اور مہمانوں کے استقبال میں جب خوشبوؤں کے پھیلانے کے لیے ان کے اندر انگارے اور خوشبو رکھی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں عود دانوں اور دُھونی دانوں کی تیاری میں حائل صوبہ سب سے زیادہ مشہور شمار ہوتا ہے۔ یہ ٹھوس جھاؤ کے درختوں سے خوب صورت اور دیدہ زیب شکلوں میں تیار کیے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں