عرب سربراہی اجلاس کے بعد غزہ سے نقل مکانی پر’او آئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری وزارت خارجہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کا ہنگامی بھی طلب کیا گیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بشمول سعودی عرب، پاکستان، ایران اور اردن کے متعدد وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے ہوئے ہیں جن میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رابطوں میں 27 فروری کو قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی وزارتی اجلاس منعقد کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ فلسطین کے مسئلے پر فلسطینی، عرب اور مسلمان ممالک کے موقف کا اظہارکیا جا سکے اور فلسطینیوں کے ان کے حق خود ارادیت اور ان کی سرزمین میں رہنے کے ناقابل تنسیخ حقوق کی پاسداری کی جائے۔

چند روز قبل مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ 27 فروری کو مسئلہ فلسطین کی پیش رفت پر ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی تازہ ترین اور خطرناک پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

باخبر ذرائع نے اس سے قبل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ ذرائع نے کہا کہ وہ نقل مکانی کے خلاف اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات کرنے کے لیے عرب ممالک میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی اور جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کل منگل کو العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینیوں سے ہر چیز چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ یا کوئی بھی فریق غزہ کو خرید نہیں سکتا۔

ابو الغیط نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی سرزمین پر کسی اور کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے اور عرب ممالک دو ریاستی حل پر متفق ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں